Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اعلاء کلمۃ اللہ

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

میں جدید علوم کو قدیم روایتی علوم پر حاصل ہوا ہے۔ مثلاً سرمایہ داری پر سوشلزم کا فکری غلبہ، شہنشاہیت پر جمہوریت کا فکری غلبہ اور قیاسی فلسفہ پر تجربی سائنس کا فکری غلبہ۔ جدید سائنسی دنیا میں بعض علوم نے غالب علم کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ اور بعض دوسرے علوم نے ان کے مقابلہ میں اپنی برتری کھودی ہے۔ اسی قسم کا غلبہ دین حق کا بھی دین باطل کے اوپر مطلوب ہے۔ خدا قادر مطلق ہے۔ اس کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ حق کو دوسری باتوں پر فائق و برتر کردے جس طرح اس نے سورج کی روشنی کو دوسری تمام زمینی روشنیوں پر فائق کر رکھا ہے۔ مگر موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں خدا اپنے مطلوب واقعات کو اسباب کے روپ میں ظاہر کرتا ہے نہ کہ معجزات کے روپ میں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ اسباب کے دائرہ میں اس مقصد کے لیے تمام ضروری حالات پیدا کیے جائیں اور اس کے بعد ایک ایسا پیغمبر بھیجا جائے جس کو خصوصی طور پر غلبہ کی نسبت دی گئی ہو۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل کرکے نہ صرف حق کا اعلان کرے بلکہ حق کا اظہار بھی کردے تا کہ خدا کے بندوں پر خدا کی نعمت کا اتمام ہو اور ان پر ان برکتوں کے دروازے کھلیں جو ان کی نادانی سے ان کے اوپر بند پڑے ہوئے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کی ان آیتوں میں کہی گئی ہے: يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (61:8-9)۔ یعنی، وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ وہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو تمام دین پر غالب کر دے خواہ وہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page