Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

ایک نئی قوم برپا کرنا

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک نئی قوم بر پا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَنَا دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ (الطبقات الکبریٰ، جلد 1، صفحہ 119)۔ یعنی، میں ابراہیم کی دعا ہوں۔ حضرت ابراہیم نے کعبہ کی تعمیر کے وقت یہ دعا کی تھی کہ اے خدا تو میرے لڑکے اسمٰعیل کی اولاد میں ایک نبی پیدا کر (البقرہ، 2:129)۔ تاہم حضرت ابراہیم کی دعا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے درمیان تقریباً ڈھائی ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ حضرت زکریا نے اپنی اولاد میں ایک پیغمبر پیدا کیے جانے کی دعا کی تو ایک سال کے اندر ہی آپ کے یہاں حضرت یحییٰ پیدا ہو گئے (آل عمران، 3:39) اور حضرت ابراہیم نے اسی قسم کی دعا فرمائی تو اس کی عملی قبولیت میں ڈھائی ہزار سال لگ گئے۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی۔ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ حضرت یحییٰ کو ایک وقتی کردار ادا کرنا تھا۔ آپ اس لیے بھیجے گئے کہ یہود کے دینی بھرم کو کھولیں اور بالآخر ان کے ہاتھوں قتل ہو کر یہ ثابت کریں کہ یہود اب اتنا بگڑ چکے ہیں کہ انہیں معزول کر دیا جائے، اور ان کی جگہ دوسری قوم کو کتاب الہی کا حامل بنایا جائے۔ اس کے مقابلہ میں پیغمبرِ اسلام کے ذمہ یہ کام تھا کہ وہ شرک کو مغلوب کر کے توحید کو غالب فکر کی حیثیت دے دیں۔ اس کام کو اسباب کے ڈھانچہ میں انجام دینے کے لیے ایک نئی صالح قوم اور موافق حالات درکار تھے۔ یہی وہ قوم اور یہی وہ حالات ہیں جن کو وجود میں لانے کے لیے ڈھائی ہزار سال لگ گئے۔ اس منصوبہ کے تحت حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ وہ عراق کے متمدن علاقہ سے نکلیں اور حجاز کے خشک اور غیر آباد مقام (بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ) پر اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسمٰعیل کو لا کر بسا دیں (ابراہیم، 14:37)۔ یہ مقام اس وقت وادی غیر ذی زرع ہونے کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ تھا۔ یہاں تمدنی آلائشوں سے دور رہ کر خالص فطرت کی آغوش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page