ایک نئی قوم برپا کرنا
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ایک ایسی قوم کی تعمیر کی جاسکتی تھی جس کے اندر خدا کی پیدا کی ہوئی فطری صلاحیتیں محفوظ ہوں (رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَّكَ، 2:128)۔ قبولیت دعائیں ڈھائی ہزار سالہ تاخیر کا واضح مطلب یہ تھا کہ مخصوص ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعہ وہ جاندار قوم وجود میں آئے جو خدا کے دین کی سچی حامل بن سکے۔ جو پورے معنوں میں ایک جان دار قوم ہو اور ان تمام مصنوعی کمیوں سے پاک ہو جن کی وجہ سے دور اول میں خدا کے دین کے اظہار کے لیے کارآمد آدمی نہ مل سکے۔ جب منصوبہ کے مطابق مکمل اسٹیج تیار ہو گیا اس وقت بنو ہاشم کے یہاں آمنہ بنت وہب کے پیٹ سے وہ پیغمبر غلبہ پیدا کر دیا گیا جس کی دعا حضرت ابراہیم کی زبان پر جاری ہوئی تھی۔ حضرت ابراہیم نے خدا کے حکم سے ہاجرہ اور اسمٰعیل کو موجودہ مکہ کے مقام پر لا کر بسا دیا جہاں اس وقت سوکھی زمین اور خشک پتھروں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ جب مشک کا پانی ختم ہو گیا اور اسمٰعیل پیاس کی شدت سے ہاتھ پاؤں مارنے لگے تو خشک بیابان میں زمزم کا چشمہ نکل آیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ خدا نے اگر چہ تم کو بڑے سخت محاذ پر کھڑا کیا ہے مگر وہ ایسا نہیں کرے گا کہ تم کو بے سہارا چھوڑ دے۔ تمہارا معاملہ خدا کا معاملہ ہے اور خدا ہر نازک موڑ پر تمہاری مدد کے لیے موجود رہے گا۔ اسمٰعیل جب نو جوانی کی عمر کو پہنچے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ اس خواب کو انہوں نے حکم خداوندی سمجھا اور بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے مگر عین اس وقت جب کہ ان کی چھری اسمٰعیل کے گلے پر پہنچ چکی تھی خدا نے آواز دے کر انہیں روک دیا اور اس کے بدلے انہیں ایک مینڈھا دیا جس کو وہ خدا کے نام پر ذبح کریں۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ تم سے اگر چہ ہم نے بہت بڑی قربانی مانگی ہے مگر یہ صرف جذبہ کا امتحان ہے۔ قربانی پیش تو کرنا ہوگا مگر ابھی قربان ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ خدا تمہیں بچا لے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader