ایک نئی قوم برپا کرنا
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
کیونکہ اصل مقصد تم کو ایک بڑے کام کے لیے استعمال کرنا ہے نہ کہ خواہ مخواہ ہلاک کر دینا۔ حضرت اسماعیل بڑے ہوئے تو انہوں نے قبیلہ جرہم کی ایک لڑکی سے شادی کرلی جو زمزم نکلنے کے بعد آ کر مکہ میں آباد ہو گیا تھا۔ حضرت ابراہیم جو اس وقت شام میں تھے، ایک روز گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اس وقت گھر پر اسماعیل نہ تھے، صرف بیوی موجود تھیں جو اپنے خسر کو پہچانتی نہ تھیں۔ حضرت ابراہیم نے پوچھا کہ اسماعیل کہاں گئے ہیں۔ ان کی بیوی نے کہا کہ شکار کرنے کے لیے۔ پھر پوچھا کہ تم لوگوں کی گزر کیسی ہوتی ہے۔ بیوی نے معاشی تنگی اور گھر کی ویرانی کی شکایت کی، اس کے بعد حضرت ابراہیم واپس چلے گئے اور خاتون سے کہا کہ جب اسماعیل آئیں تو ان سے میرا کہنا اور یہ پیغام پہنچادینا کہ اپنی چوکھٹ کو بدل دو (غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِكَ) حضرت اسماعیل نے واپسی کے بعد جب پورا واقعہ سنا توانہوں نے سمجھ لیا کہ یہ میرے باپ تھے جو ہمارا حال دیکھنے آئے تھے اور ’’چوکھٹ بدل دو‘‘ کا مطلب استعارے کی زبان میں یہ ہے کہ اس بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیوی کرو، کیونکہ وہ اس نسل کو پیدا کرنے کے لیے موزوں نہیں جس کا منصوبہ خدا نے بنایا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس بیوی کو طلاق دے دی اور دوسری عورت سے شادی کرلی۔ اس کے کچھ دن بعد حضرت ابراہیم دوبارہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، اب بھی اسماعیل گھر پر موجود نہ ملے۔ حضرت ابراہیم نے دوسری بیوی سے بھی وہی سوال کیا جوانہوں نے پہلی بیوی سے کیا تھا۔ اس بیوی نے اسماعیل کی تعریف کی اور کہا کہ جو کچھ ہے بہت اچھا ہے، سب خدا کا شکر ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم یہ کہہ کر واپس چلے گئے کہ اسماعیل آئیں تو ان کو میرا سلام کہنا اور یہ پیغام پہنچادینا کہ چوکھٹ کو قائم رکھو (أَنْ تُثْبِتَ عَتَبَةَ بَابِك )۔ یعنی تمہاری یہ بیوی پیش نظر منصوبہ کے لیے بالکل ٹھیک ہے، اس کے ساتھ اپنا تعلق باقی رکھو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3364)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader