Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح عرب کے الگ تھلک علاقے میں اسماعیل کے ابتدائی خاندان سے ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی جس نے بالآخر اس جاندار قوم ( بنواسماعیل ) کی صورت اختیار کی جو نبی آخرالزمان کا گہوارہ بن سکے اور تاریخ کی اس عظیم ترین ذمہ داری کو سنبھالے جو خدا اس کے سپرد کرنا چاہتا تھا۔ یہ قوم جو عرب کے صحراؤں اور چٹیل بیابانوں میں تیار ہوئی، اس کی خصوصیات کو ایک لفظ میں المروءۃ کہا جا سکتا ہے۔ المروءۃ کے لفظی معنی ہیں مردانگی۔ یہ عربوں کے یہاں کسی کے جوہر انسانیت کو بتانے کے لیے سب سے اونچا لفظ سمجھا جاتا تھا۔ قدیم عربی شاعر کہتا ہے: فََمَطْلَبُهَا كَهْلًا عَلَيْهِ شَدِيدُ إِذَا الْمَرْءُ أَعْيَتْهُ الْمُرُوءَةَ نَاشِئًا ( آدمی اگر اٹھتی جوانی میں مردانگی کا مقام حاصل کرنے سے عاجز رہ جائے تو بڑھپا پے میں اس کو حاصل کرنا بہت مشکل ہے )۔ پروفیسر فلپ ہٹی نے عرب تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب کے بیابانوں میں صدیوں کے عمل سے جو قوم تیار ہوئی وہ دنیا کی ایک نرالی قوم تھی جو مندرجہ ذیل اخلاقی صفات میں کمال درجہ رکھتی تھی : Courage, endurance in time of trouble (sabr) observance of the rights and obligations of neighbourliness (jiwar) manliness (muruah) generosity and hospitality regard for women and fulfilment of solemn promises. (p. 253) ہمت ، مشکل کے وقت برداشت ، پڑوسی کے حقوق اور ذمہ داریوں کی ادائیگی، مردانگی ، فیاضی اور مہمان نوازی ، عورتوں کی عزت اور وعدہ کر لینے کے بعد اسے پورا کرنا۔ خیرامت اس طرح ڈھائی ہزار سالہ عمل کے ذریعہ ایک ایسی قوم نکالی گئی جو اپنے انسانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page