Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

خیرِ امت

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

اوصاف کے اعتبار سے تمام قوموں میں سب سے بہتر تھی۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (3:110)- یعنی، تم بہترین گروہ ہو جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا ہے۔ صحابی رسول عبد اللہ بن عباس نے خیر امت سے مہاجرین کا گروہ مراد لیا ہے (هُمُ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ) تفسیر الطبری، جلد 5، صفحہ 672 ۔ مہاجرین دراصل اس گروہ کی علامت تھے۔ باعتبار حقیقت اس سے وہ پورا عرب گروہ مراد ہے جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ پیغمبروں کو ہر زمانہ میں ایک ہی سب سے بڑی رکاوٹ پیش آئی ہے۔ ان کی مخاطب قوموں کے پاس جو آبائی دین ہوتا تھا اس کے ساتھ مادی رونقیں اور درودیوار کی عظمتیں شامل ہوتی تھیں۔ دوسری طرف وقت کا پیغمبر دلیل مجرد کی سطح پر کھڑا ہوتا تھا۔ عرب میں جو قوم تیار ہوئی اس کے اندر یہ انوکھی صفت تھی کہ وہ حق کو دلیل مجرد کی سطح پر پا سکے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے حق کے حوالے کر دے جس نے ابھی ظواہر کا روپ اختیار نہیں کیا ہے۔ کھلے آسمان اور وسیع صحراؤں کے درمیان جو قوم تیار ہوئی وہ حیرت انگیز طور پر اپنے اندر یہ صلاحیت رکھتی تھی کہ حقیقت کو اس کے بے آمیز روپ میں دیکھ سکے، وہ ایک ایسے حق کے لیے اپنا سب کچھ سونپ دے جس سے بظاہر دنیا میں کچھ ملنے والا نہیں۔ اصحاب رسول کی اس خصوصیت کو حضرت عبداللہ بن مسعود نے تین لفظوں میں اس طرح ادا کیا ہے: وہ اس امت کے سب سے افضل لوگ تھے۔ وہ سب سے زیادہ نیک دل، سب سے زیادہ گہرا علم رکھنے والے اور سب سے کم تکلف والے تھے۔ اللہ نے ان کو اپنے نبی کی صحبت اور دین کے قیام کے لیے چن لیا تھا (كَانُوا خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ، أَبَرَّهَا قُلُوبًا، وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا، وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا، قَوْمٌ اخْتَارَهُمُ اللَّهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَقْلِ دِينِهِ) شرح السنة للبغوی، جلد 1، صفحہ 214، اثر نمبر 104۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page