Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

خیرِ امت

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

دور شرک میں انسان سے سب سے اہم صفت جو کھوئی گئی تھی، وہ تھی ۔ حقیقت کو مجرد سطح پر دیکھنے کی صلاحیت۔ اب انسان حقیقت کو محسوسات اور مظاہر کی سطح پر دیکھتا تھا، وہ حقیقت کو مجرد سطح پر دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا تھا۔ یہی اصل رکاوٹ تھی جس کی وجہ سے پچھلے زمانہ میں نبیوں کا مذاق اُڑایا جاتا رہا۔ وہ خدا کے منکر نہ تھے مگر انہوں نے خدا کو محسوسات کے پیکر میں ڈھال لیا تھا۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا کو سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اس لیے انہوں نے نظر آنے والی چیزوں کو خدائی کا پیکر فرض کر کے ان کو اپنا مرکزِ توجہ بنا لیا تھا، خواہ یہ مادی برائیاں ہوں یا انسانی بُرائییں۔ ان کی یہی کمزوری پیغمبر کی پیغمبری پر یقین کرنے میں مانع تھی۔ ہر پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ کے لوگوں کے لیے وہ محض ایک انسان ہوتا ہے۔ ابھی اس کے نام کے ساتھ وہ تاریخی بُرائیਆਂ شامل نہیں ہوتیں جو بعد کے دور میں اس کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے۔ قرآن کے مطابق ، حضرت ابراہیم نے اپنی دعا میں فرمایا تھا: اے میرے رب ، اس شہر ( مکہ ) کو تو امن والا شہر بنا دے اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کو پوجیں ۔ اے میرے رب ، ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ پس جس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بخشنے والا مہربان ہے۔ اے میرے رب، میں نے اپنی اولاد کو ایک ایسے میدان میں بسایا ہے جہاں کھیتی نہیں، تیرے محترم گھر کے پاس، اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز قائم کریں (37-35:14)۔ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا غلبہ اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ عالی شان بت خانے ہر طرف قائم تھے۔ انسان کے لیے بظاہر ناممکن ہو گیا تھا کہ وہ اس سے ہٹ کر سوچ سکے۔ اس وقت اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک چٹیل زمین میں ایک نئی نسل پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ یہ ایک محفوظ علاقہ میں ایسے افراد تیار کرنے کا منصوبہ تھا جو ظواہر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page