Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

خیرِ امت

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اوپر اٹھ کر حقائق کا پرستار بن سکے۔ چنانچہ اسی انسانی مادہ سے وہ قوم تیار ہوئی، جس کے متعلق قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَلَکِنَّ اللَّہَ حَبَّبَ إِلَیْکُمُ الْإِیمَانَ وَزَیَّنَہُ فِي قُلُوبِکُمْ وَکَرَّہَ إِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ أُولَئِكَ ہُمُ الرَّاشِدُونَ (49: 7)۔ یعنی، مگر اللہ نے ایمان کو تمہارے لیے محبوب بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین کر دیا اور تمہارے لیے کفر اور فسق اور نافرمانی کو قابلِ نفرت بنا دیا۔ یہی لوگ راہِ راست والے ہیں۔ اس آیت کو ہم اس وقت سمجھ سکتے ہیں جب کہ اس کو ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں رکھ کر دیکھیں جب کہ اصحابِ رسول کے ایمان کا واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے دکھائی دینے والے خداؤں کے ہجوم میں دکھائی نہ دینے والے خدا کو پایا اور اس کو اپنا سب کچھ بنالیا۔ عظمت کے مناروں کے درمیان انہوں نے عظمتوں سے خالی پیغمبر کو پہچانا اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا۔ ایک دین غریب (اجنبی دین) اپنی ساری بے سروسامانی کے با وجود ان کی نظر میں اتنا محبوب ہو گیا کہ اس کی خاطر کوئی بھی قربانی کرنا ان کے لیے مشکل نہ رہا۔ خلاصہ یہ کہ انہوں نے ایک ایسی سچائی کو دیکھ لیا جو ابھی مجرد روپ میں تھی۔ جس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہیں ہوئی تھیں۔ جو ابھی قومی فخر کا نشان نہیں بنا تھا۔ جس میں اپنا سب کچھ دے دینا تھا۔ مگر دنیا میں اس کے بدلے کچھ بھی پانا نہ تھا۔ اس معاملہ کی ایک نمائندہ مثال وہ ہے جو ہجرت سے پہلے بیعتِ عقبہ ثانیہ کے وقت پیش آئی۔ عین اس زمانہ میں جب کہ مکہ میں اسلام کے حالات بے حد تنگ ہو چکے تھے، مدینہ میں کچھ مسلمانوں کی تبلیغ سے اسلام پھیلنے لگا۔ حتی کہ ہر گھر میں داخل ہو گیا۔ اس وقت مدینہ کے کچھ لوگوں نے طے کیا کہ وہ مکہ جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر نصرت کی بیعت کریں اور آپ کو مکہ چھوڑ کر مدینہ آنے کی دعوت دیں۔ حضرت جابر انصاری کہتے ہیں کہ جب مدینہ کے گھر گھر میں اسلام پہنچ گیا تو ہم نے مشورہ کیا کہ آخر کب تک ہم اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page