خیرِ امت
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
کے رسول کو اس حال میں چھوڑیں کہ آپ مکہ کے پہاڑوں میں پریشان اور ڈرتے سہے پھرتے رہیں ( ثُمَّ ائْتَمِرُوا جَمِيعًا، فَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ ) مسند احمد، حدیث نمبر 14456۔ رسول اللہ کا بے یارومددگار ہونا ظاہر بینوں کے لیے اس بات کا ثبوت تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہی نہیں۔ اگر اللہ کے رسول ہوتے تو آپ کی یہ حالت کیوں ہوتی۔ مگر اہل مدینہ نے آپ کے معاملہ کو حقیقت کی نظر سے دیکھا۔ انہوں نے یہ راز پالیا کہ آپ کا معاملہ ایک خدائی معاملہ ہے اور آپ کی مدد کر کے وہ خدا کی رحمتوں اور برکتوں کے مستحق بن سکتے ہیں۔ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر مدینہ کے ستر سے کچھ اوپر نمائندوں نے مکہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہ بیعت کیسے نازک حالات میں ہوئی اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس وفد کے ایک رکن کعب بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ ہم مدینہ سے مکہ کے لیے اس طرح روانہ ہوئے کہ ہمارا قبیلہ جو حسب معمول زیارت کعبہ کے لیے جا رہا تھا اس کے ساتھ خاموشی سے حج کے نام پر شریک ہو گئے۔ مکہ کے قریب قبیلہ والوں نے پڑاؤ ڈالا۔ رات کے وقت ہم دوسروں کی طرح ان کے ساتھ سو گئے۔ یہاں تک کہ جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا تو ہم رسول اللہ کی قرارداد کے مطابق اپنے بستروں سے خاموشی کے ساتھ اٹھے، اور مقام موعود کی طرف اس طرح چلے جیسے چڑیا جھاڑیوں میں آہستہ آہستہ چھپتی ہوئی چلتی ہے (نَتَسَلَّلُ تَسَلُّلَ الْقَطَا مُسْتَخْفِينَ) سيرة ابن هشام، جلد 1 ، صفحه 441۔ وہ لمحہ بھی کیسا عجیب تھا جب کہ ایک دنیا پیغمبر کو رد کر چکی تھی، اس وقت کچھ لوگ اس کو قبول کرنے کے لیے سبقت کر رہے تھے، یہ وہ وقت تھا کہ پیغمبر سے ان کا وطن چھینا جا چکا تھا۔ طائف سے انہیں پتھر مار کر بھگا دیا گیا تھا۔ تمام قبائل نے آپ کو پناہ میں لینے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader