Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

سے انکار کر دیا تھا۔ ایسے نازک وقت میں مدینہ کے لوگوں نے آپ کی صداقت کو پہچانا اور آپ کی پکار پر لبیک کہا۔ اس وقت جب کہ انصار مدینہ بیعت کے لیے بڑھے، ایک شخص نے اٹھ کر کہا، کیا تم جانتے ہو کہ تم کس چیز پر بیعت کر رہے ہو۔ یہ اپنے اموال اور اپنی اولاد کو ہلاک کرنے پر بیعت کرنا ہے (عَلَى نَهْكَةِ الأَمْوَالِ، وَقَتْلِ الأَشْرَافِ)۔ انہوں نے کہا ہاں، ہم بیعت کر رہے ہیں۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہم نے اس عہد بیعت کو آخر تک پورا کر دیا تو ہمارے لیے کیا ہے۔ آپ نے فرمایا جنت (فَمَا لَنَا بِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ نَحْنُ وَفَيْنَا بِذَلِكَ؟ قَالَ: الْجَنَّةُ)۔ انہوں نے کہا، اپنا ہاتھ لائیے، ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 446)۔ اپنے آپ کو اس طرح ایک متنازعہ صداقت کے حوالے کرنا، اپنا سب کچھ اس طرح ایک غیر قائم شدہ حق کو سونپ دینا اتنا انوکھا واقعہ ہے کہ وہ اجتماعی سطح پر تاریخ میں صرف ایک ہی بار پیش آیا ہے، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ غیر متعلق مسائل سے تعرض نہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو عرب میں وہ تمام مسائل پوری طرح موجود تھے جن کو موجودہ زمانہ میں قومی مسائل کہا جاتا ہے اور جن مسائل کے نام پر عام طور پر دنیا میں تحریکیں اٹھتی ہیں۔ یہ مسائل ذہین افراد کو متاثر کرتے ہیں اور وہ ان کا نعرہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ تمام مسائل موجود تھے لیکن آپ نے ان سے مطلق تعرض نہیں کیا۔ اگر آپ ان مسائل میں الجھتے تو یہ خدا کے منصوبہ میں اپنے کو شامل کرنا ہوتا۔ وہ سارے مواقع جو ڈھائی ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں پیدا کیے گئے تھے برباد ہو کر رہ جاتے۔ 1۔ حبش نے 525ء میں عرب کے سرحدی علاقہ یمن پر قبضہ کر لیا تھا۔ ابر ہہ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page