Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

غیر متعلق مسائل سے تعرض نہ کرنا

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

زمانہ میں شاہ حبش کی طرف سے یمن کا گورنر تھا۔ ابرہہ کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال (570ء) میں اس نے ہاتھیوں کی فوج سے مکہ پر حملہ کیا تا کہ کعبہ کو ڈھادے اور مکہ کی مرکزی حیثیت کو ختم کر دے۔ 50 سالہ قبضہ کے بعد یمن پر حبش کی حکومت ختم ہوئی اور اس پر شاہ فارس کی حکومت قائم ہوگئی جس کی طرف سے باذان یمن کا گورنر مقرر ہوا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، اور اس کی خبر کسریٰ (شاہ فارس) کو پہنچی تو اس نے باذان کو لکھا کہ اس آدمی کے پاس جاؤ جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس سے کہو کہ وہ اس دعویٰ سے باز آئے۔ اگر وہ باز نہ آئے تو اس کا سر کاٹ کر میرے پاس بھیجو (وَإِلَّا فَابْعَثْ إِلَيَّ بِرَأْسِهِ) سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 69۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرب میں ظاہر ہوئے تو اس وقت عرب کی سرحدوں پر غیر ملکی قبضہ نے کیسے سنگین مسائل پیدا کر رکھے تھے۔ ان حالات میں ایک صورت یہ تھی کہ آپ اپنے ہم قوموں کو غیر ملکی قبضہ کے خلاف اکساتے اور اس کے خلاف جنگ چھیڑ دیتے۔ اگر آپ ایسا کرتے تو یہ خدا کے منصوبہ سے انحراف کے ہم معنی ہوتا۔ کیونکہ خدا کا منصوبہ تو یہ تھا کہ لوگوں سے غیر متعلق امور پر ٹکراؤ نہ کیا جائے بلکہ خاموشی سے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھا جائے۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور تاریخ نے دیکھا کہ بالآخر خود باذان نے اسلام قبول کر لیا اور یمن کے عیسائی باشندوں کی اکثریت نے بھی۔ جو مقصد ایک قومی لیڈر نا کام طور پر سیاسی کارروائیوں کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا وہ آپ نے کامیاب طور پر دعوتی کارروائی کے ذریعہ حاصل کر لیا۔ 2۔ ابو طالب کی وفات کے بعد قبائلی رسم کے مطابق بنو ہاشم کا سردار ابولہب مقرر ہوا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حمایت میں لینے سے انکار کر دیا۔ اب آپ کو کسی دوسرے حمایتی قبیلہ کی ضرورت پیش آئی۔ آپ حمایتی کی تلاش میں مختلف قبائل کے پاس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page