Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

گئے ۔ عرب کا ایک سرحدی قبیلہ بنو شیبان بن ثعلبہ تھا۔ آپ اس سے ملے تو قبیلہ کے سردار مثنیٰ بن حارثہ نے کہا کہ ہم کسریٰ ( شاہ فارس ) کی مملکت کے قریب رہتے ہیں۔ وہاں ہم ایک معاہدہ کے تحت مقیم ہیں جو کسریٰ نے ہم سے لیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم کوئی نئی بات نہ کریں گے اور نہ کسی نئی بات کرنے والے کو پناہ دیں گے۔ اور شاید بادشاہوں کو وہ بات ناپسند ہو جس کی طرف آپ بلاتے ہیں (أَنْ لَا نُحْدِثَ حَدَثًا ، وَلَا نُؤْوِيَ مُحْدِثًا ، وَلَعَلَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي تَدْعُونَا إِلَيْهِ مِمَّا تَكْرَهُهُ الْمُلُوكُ) السيرة النبوية لابن كثير، جلد 2، صفحه 168 ۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اطراف عرب میں بیرونی سلطنتوں کے نفوذ نے جو مسائل پیدا کیے تھے وہ صرف سیاسی یا ملکی ہی نہ تھے بلکہ دعوت و تبلیغ کے معاملہ تک بھی پہنچ گئے تھے۔ اس کے باوجود آپ نے ایسا نہیں کیا کہ یہ کہہ کر پہلے مرحلہ ہی میں ان سے لڑائی چھیڑ دیں کہ جب تک یہ خارجی رکاوٹیں دور نہ ہوں کوئی دعوتی کام نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آپ اول مرحلہ میں ان خارجی طاقتوں سے لڑجاتے تو یہ خدائی منصوبہ کے خلاف ہوتا۔ کیونکہ خدائی منصوبہ تو یہ تھا کہ روم و فارس کو آپس میں بیس سال تک لڑا کر بالکل کمزور کر دیا جائے اور پھر خود انہیں پر جارحیت کا الزام ڈال کر مسلمانوں کے لیے ان کو فتح کرنا آسان بنا دیا جائے۔ اگر مسلمان ابتدائی مرحلہ میں روم و فارس سے لڑ جاتے تو وہ نتیجہ بالکل برعکس صورت میں نکلتا جو بعد کے تصادم کے ذریعہ حیرت انگیز غیر ملکی فتوحات کی صورت میں برآمد ہوا۔ خدائی منصوبہ سے مطابقت کسان کا معاملہ قدرت کے کاگ ( دندانہ ) میں اپنا کاگ دینے کا معاملہ ہے۔ خدا نے ہماری زمین پر فصل اگانے کے بہترین امکانات پیدا کیے ہیں۔ مگر ان امکانات کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کے لیے کسان کو ایک حصہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر زمین کی سطح پر زرخیز مٹی (soil) کی تہ رکھی گئی ہے جو معلوم کائنات میں کسی بھی دوسرے مقام پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page