خدائی منصوبے سے مطابقت
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں، مگر تمام زرخیزی کے باوجود اس مٹی سے فصل اسی وقت اگتی ہے جب کہ اس میں نمی بھی ہو۔ اس نمی کے نہ ہونے کی وجہ سے خشک علاقوں کے صحرا چٹیل بیابان بن کر رہ گئے ہیں، اس حقیقت کو قدرت لاؤڈاسپیکر پر اعلان کرکے نہیں بتاتی بلکہ خاموش اشارہ کی زبان میں بتاتی ہے۔ کسان کو اسے خاموش اشارہ کی زبان میں جاننا پڑتا ہے۔ چنانچہ کسان یہ کرتا ہے کہ وہ یا تو بارش سے نم ہونے والی زمین میں اپنی فصل بوتا ہے یا آب پاشی کے ذریعہ پہلے اس میں نمی پہنچاتا ہے، پھر اپنا دانہ اس میں ڈالتا ہے۔ یہی معاملہ داعی کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عرب میں اگرچہ بہترین حالات پیدا کر دیے گئے تھے اس کے باوجود ضروری تھا کہ آپ ربانی حکمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے کام کو آگے بڑھائیں۔ اگر آپ کا منصوبہ خدائی منصوبہ کی رعایت کے بغیر چلتا تو آپ کو کبھی وہ کامیابی حاصل نہ ہوتی جو عملاً آپ کو حاصل ہوئی۔ 1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا بنیادی اصول یہ تھا کہ دعوتی عمل میں ساری اہمیت مسئلہ آخرت کو دی جائے۔ مسئلہ دنیا کو کسی بھی حال میں دعوت کا اشو نہ بنایا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی مسئلہ انسان کا ابدی اور حقیقی مسئلہ ہے۔ دوسرے تمام مسائل وقتی اور اضافی مسئلے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آخرت کے بغیر انسان کی کامیابی بھی اتنی ہی بے معنی ہے جتنی کہ اس کی ناکامی بے معنی۔ دوسری بات یہ کہ انسانی زندگی میں ہر قسم کی کامیابی کا تعلق افراد کے کردار سے ہے۔ اور انسان کے اندر حقیقی اور مستقل کردار صرف آخرت پر گہرے یقین ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ عقیدہ آخرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان آزاد اور خود مختار نہیں ہے، بلکہ وہ ہر آن خدا کی پکڑ میں ہے۔ یہ عقیدہ آدمی سے بے راہ روی کا مزاج چھین لیتا ہے اور اس کو پابند اور ذمہ دار انسان بنا دیتا ہے۔ قرآن وحدیث کو اگر خالی الذہن ہو کر پڑھا جائے تو اس میں آخرت کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader