خدائی منصوبے سے مطابقت
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
مسئلہ سب سے زیادہ ابھرا ہوا مسئلہ نظر آئے گا۔ دوسرے مسئلوں کا ذکر بھی اگر چہ آتا ہے مگر وہ ضمناً ہے، نہ کہ اصلاً۔ 2- دوسری بات یہ کہ داعی اور مدعو کے درمیان کسی بھی حال میں کوئی مادی جھگڑا نہ کھڑا کیا جائے۔ مدعو کو کسی بھی حال میں فریق نہ بننے دیا جائے۔ خواہ اس کی جو بھی قیمت دینی پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس حکمت کی ایک نمایاں مثال حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔ قریش نے مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑ کر یہ صورت حال پیدا کردی تھی کہ مسلم گروہ اور غیر مسلم گروہ دونوں ایک دوسرے کے جنگی فریق بن گئے تھے۔ تمام وقت جنگ کی باتوں اور جنگ کی تیاریوں میں گزرنے لگا تھا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ہر مطالبہ کو مانتے ہوئے ان سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر لیا۔ یہ معاہدہ اس قدر یک طرفہ تھا کہ بہت سے مسلمانوں نے اس کو ذلت کا معاہدہ سمجھا، مگر خدا کے نزدیک وہ فتح مبین (الفتح ، 48:1) کا دروازہ تھا۔ کیونکہ اس کے ذریعہ جنگی مقابلہ آرائی کی فضا ختم ہوتی تھی اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ بحال ہو رہا تھا۔ چنانچہ اس معاہدہ کے بعد جیسے ہی اہل عرب جنگی فریق کے بجائے مدعو کے مقام پر آئے، ان کے درمیان دعوت حق کی آواز پھیلنے لگی۔ یہاں تک کہ صرف دو سال میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دس گنا بڑھ گئی۔ جو مکہ جنگ سے فتح ہوتا نظر نہ آتا تھا وہ دعوتی عمل کے ذریعہ مسخر ہو گیا۔ 3- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مدعو پر قابو پانے کے باجود اس کے ساتھ فراخی کا سلوک کیا جائے۔ اس معاملہ کی مثالیں رسول اللہ کی پوری زندگی میں پھیلی ہوئی ہیں۔ فتح مکہ کے بعد قریش کے تمام وہ لوگ پوری طرح آپ کے قابو میں تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ اور مسلمانوں کے ساتھ بد ترین ظلم کیے تھے۔ مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader