خدائی منصوبے سے مطابقت
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ نے ماضی کے جرائم کی بنیاد پر کسی کو سزا نہ دی۔ سب کو یک طرفہ طور پر معاف کر دیا۔ قریش کے لوگ جب بندھے ہوئے آپ کے سامنے حاضر کیے گئے تو آپ نے فرمایا: اِذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 412)۔ یعنی، جاؤ تم سب آزاد ہو۔ کچھ لوگوں کے بارے میں آپ نے وقتی طور پر قتل کیے جانے کا حکم دے دیا۔ مگر اس کے بعد ان میں سے بھی ہر اس شخص کو معاف کر دیا گیا جب کہ اس نے یا اس کی طرف سے کسی نے آ کر آپ سے جان بخشی کی درخواست کی۔ اس قسم کے سترہ نامزد آدمیوں میں سے صرف پانچ کو قتل کیا گیا جنہوں نے معافی نہیں مانگی تھی۔ احد کی جنگ میں وحشی بن حرب نے حضرت حمزہ کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد ہند بنت عتبہ نے آپ کی لاش کو لے کر اس کا مثلہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو وقتی طور پر آپ کی زبان سے نکل گیا کہ اگر اللہ نے مجھے ان کے اوپر فتح دی تو میں ان کے تین آدمیوں کا مثلہ کروں گا (لَئِنْ أَظْهَرَنِي اللَّهُ عَلَى قُرَيْشٍ فِي مَوْطِنٍ مِنَ الْمَوَاطِنِ لَأُمَثِّلَنَّ بِثَلَاثِينَ رَجُلاً مِنْهُمْ) السيرة النبوية، لابن کثیر، جلد 3، صفحہ 79۔ فتح مکہ کے بعد آپ نے جن سترہ آدمیوں کے قتل کا حکم دیا تھا ان میں وحشی اور ہند دونوں شامل تھے۔ مگر دونوں نے جب آپ کی خدمت میں آ کر معافی مانگی تو دونوں کو معاف کر دیا گیا۔ کیونکہ یہی طریقہ منصوبہ الہی کے مطابق تھا۔ یہ اصول بے حد اہم حکمت پر مبنی ہے۔ انسان پتھر نہیں ہے کہ ایک پتھر توڑ دیا جائے تو اس کے دوسرے قریبی پتھر توڑنے والے کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہ کریں۔ انسان زندہ معاشرہ کا ایک زندہ جزء ہے۔ جب بھی ایک انسان پر جارحانہ کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے قریبی لوگوں میں انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ اس طرح سماج میں تخریبی کارروائیاں جنم لیتی ہیں۔ فتح کے بعد جو وقت نئی تعمیر میں لگتا وہ تخریب کاروں کا مقابلہ کرنے میں صرف ہونے لگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد پچھلے مخالفین کو عمومی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader