Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

خدائی منصوبے سے مطابقت

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

معافی دے کر آئندہ کے لیے ہر قسم کی تخریبی سرگرمیوں کا دروازہ بند کر دیا۔ مزید یہ کہ ان کی اکثر بہت اسلام قبول کر کے اسلام کی طاقت کا ذریعہ بن گئی، جیسے کہ عکرمہ بن ابی جہل۔ 4۔ فتح و غلبہ حاصل کرنے کے بعد اجتماعی معاملات کی اصلاح کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلد بازی کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا بلکہ صبر و تدرج کے ذریعہ اصلاحات کا نفاذ کیا۔ مکہ کے قریش دین ابراہیمی کے وارث تھے۔ مگر انہوں نے اصل دین ابراہیمی کو بگاڑ دیا اور اس میں بہت سی بدعتیں جاری کردیں۔ مثلاً حضرت ابراہیم نے حج کو قمری مہینوں کی بنیاد پر ذی الحجہ میں قائم کیا تھا۔ قمری سال شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے قمری مہینوں کی مطابقت موسموں کے ساتھ باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حج کبھی ایک موسم میں آتا اور کبھی دوسرے موسم میں۔ یہ صورت قریش کے تجارتی مفاد کے خلاف تھی۔ انہوں نے حج کو ہمیشہ گرمی کے موسم میں رکھنے کے لیے نسی (کبیئہ) کا طریقہ اختیار کر لیا۔ وہ قمری مہینوں میں ہر سال گیارہ دن بڑھادیتے۔ اس طرح نام اگر چہ قمری مہینوں کا ہوتا مگر عملاً اس کا سال شمسی سال کے ساتھ چلتا۔ اس کی وجہ سے تاریخیں 33 سال تک کے لیے بدل جاتیں، ایک بار مہینوں کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے بعد دوبارہ 33 سال پر ایسا ہوتا کہ حج ابراہیمی طریقہ کے مطابق اصل ذی الحجہ میں پڑتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مامور تھے کہ وہ قریش کی بدعتوں کو ختم کر کے حج کو دوبارہ ابراہیمی طریقہ پر قائم کریں۔ فتح مکہ (رمضان 8ھ) کے بعد آپ عرب کے حکمران بن گئے۔ آپ ایسا کر سکتے تھے کہ نسی کی بدعت کو فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیں۔ مگر آپ نے صبر سے کام لیا۔ اس وقت نسی کے 33 سالہ دور کو پورا ہونے میں صرف دو سال باقی تھے۔ آپ نے دو سال انتظار فرمایا۔ مکہ کے فاتح ہونے کے باوجود دو سال آپ حج کے لیے نہیں گئے۔ آپ نے صرف تیسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page