Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

خدائی منصوبے سے مطابقت

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

سال (10 ھ) حج کی عبادت میں شرکت کی جو کہ 33 سالہ دور کو پورا کر کے ٹھیک ابراہیمی تاریخ پر ذی الحجہ میں ہورہا تھا۔ اس وقت حجۃ الوداع میں آپ نے اعلان فرما دیا کہ اس سال حج جس طرح ہورہا ہے اسی طرح اب ہر سال ہوگا۔ اب نسیء کا اصول ہمیشہ کے لیے ختم کیا جاتا ہے۔ یہی بات ہے جو حجۃ الوداع کے خطبہ میں آپ نے ان الفاظ میں ادا فرمائی: أَلَا وَإِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَإِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ ( مغازی الواقدی، جلد 3، صفحہ 1112 ) یعنی، اے لوگو! زمانہ گھوم گیا۔ پس آج کے دن وہ اپنی اس ہیئت پر ہے جس دن کہ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ اور مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب میں 12 مہینے ہیں۔ اس تاخیر میں بہت گہری مصلحت تھی۔ کیونکہ مذہب میں جب کوئی طریقہ عرصہ تک رائج رہے تو وہ مقدس بن جاتا ہے۔ لوگوں کے لیے اس کے خلاف سوچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چونکہ دو سال بعد خود ہی حج ان تاریخوں پر آرہا تھا جو آپ چاہتے تھے۔ اس لیے آپ نے قبل از وقت اقدام کر کے غیر ضروری مسئلہ کھڑا کرنے سے پرہیز کیا۔ جب فطری رفتار سے حج اپنی اصل تاریخ پر آگیا تو آپ نے اعلان فرما دیا کہ یہی حج کی اصل تاریخ ہے اور آئندہ اب انہی تاریخوں میں حج ہوتا رہے گا۔ یہ چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اپنی پوری تحریک میں ربانی حکمت کو ملحوظ رکھا۔ آپ نے خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملایا، آپ نے خدائی منصوبہ سے موافقت کرتے ہوئے تمام کارروائیاں کیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی کوششوں کے عظیم الشان نتائج برآمد ہوئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page