Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

حالات سے بلند ہو کر

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

حالات سے بلند ہو کر قدیم عرب کا تصور کیجیے۔ جنوب میں بحر عرب اور مشرق و مغرب میں خلیج فارس اور بحر احمر کے درمیان بننے والا یہ جزیرہ نما زبردست سیاسی مسائل سے دو چار تھا۔ عرب کے مشرق میں ایران تھا جہاں طاقت ور ساسانی سلطنت قائم تھی۔ شمال میں رومی یا باز نطینی سلطنت تھی جو دور قدیم کی سب سے بڑی شہنشاہیت مانی جاتی ہے۔ ان دونوں سلطنتوں نے عرب جغرافیہ کو اپنی سیاست کا اکھاڑہ بنا رکھا تھا۔ عرب کے بہترین زرخیز علاقے براہ راست ان کے قبضے میں تھے۔ عراق پر ایرانیوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔ شام اور اردن اور فلسطین اور لبنان رومی سلطنت کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ عرب کے مشرق و مغرب میں اگر چہ خلیج فارس اور بحر احمر کی قدرتی آبی دیواریں تھیں مگر یہ حصے بھی پڑوس کی طاقت ور شہنشاہیتوں کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہ تھے۔ مشرق سے ایران کے بحری بیڑے خلیج عمان کو عبور کر کے نہایت آسانی سے عرب کے علاقے میں گھس آتے تھے۔ مغرب میں بحر احمر کے اُس پار کے دونوں ممالک مصر اور حبشہ رومی شہنشاہیت کے ماتحت تھے۔ اور وہ ان کے ذریعے سے ہر وقت عرب کے بظاہر اس محفوظ حصہ میں دخل اندازی کر سکتے تھے۔ عرب کے اندرونی علاقہ میں قبائلی سرداروں کی ریاستیں قائم تھیں۔ مگر رومیوں اور ایرانیوں کے عمومی تسلط کی وجہ سے ان کے لیے بھی زندگی کی صورت یہی تھی کہ ان بیرونی شہنشاہیتوں کی ماتحتی قبول کر کے اپنا سیاسی جزیرہ بنائیں ۔ شمال میں شام کی سرحدوں سے ملی ہوئی امارت غساسنہ عربیہ تھی جو رومی سلطنت کے تابع تھی اور بعثت نبوی کے زمانہ میں اس کا امیر حارث بن ابی شمر غسانی تھا۔ اسی طرح امارت بصریٰ تھی۔ وہ بھی رومی شہنشاہیت کے زیر اثر تھی۔ یہاں رومی تمدن چھایا ہوا تھا اور ان کے اثر سے یہاں کے باشندوں کی بڑی تعداد مسیحی ہو گئی تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page