حالات سے بلند ہو کر
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
عراق کی سرحد پر امارت حیرہ عربی تھی جو ایران کے تابع تھی۔ خلیج فارس کے کنارے کنارے متعدد عرب ریاستیں تھیں۔ وہ سب ایران کے زیر اثر تھیں، مثلاً امارت بحرین، جس کا امیر منذر بناوی تھا۔ یہاں کے باشندوں کی بڑی تعداد ایرانی تہذیب کے اثر سے مجوسی ہو چکی تھی۔ امارت عمان، جس کے امیر جلندی کے دولط کے جنیفر اور عبد تھے۔ امارت یمامہ، جس کا امیر ہو دہ بن علی الحنفی تھا۔ رومیوں اور ایرانیوں میں سیاسی رقابت کی وجہ سے اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ ان میں رومیوں کی ماتحت عرب ریاستیں (مثلاً غساسنہ) روم کا ساتھ دیتی تھیں اور ایران کی ماتحت عرب ریاستیں (مثلاً حیرہ) ایران کا۔ اس طرح ایران و روم کی باہمی لڑائیوں میں عرب خون بھی خوب بہتا تھا۔ قدیم یمن، موجودہ یمن سے بہت زیادہ وسیع تھا۔ اس میں مختلف قبائل کی حکومتیں قائم تھیں سب سے بڑا یمنی علاقہ وہ تھا جس کا دارالسلطنت صنعا تھا۔ نجران اسی کے اندر واقع تھا۔ یمن میں بیرونی نفوذ کا آغاز غالباً 343ء سے ہوتا ہے جب کہ سلطنت روم نے یہاں اپنے عیسائی مبلغین بھیجنے شروع کیے۔ ان عیسائی مبلغین کو نجران میں کامیابی ہوئی اور وہاں کے بیشتر لوگ عیسائی ہو گئے۔ اس مذہبی واقعہ میں روم کے حریف ایران کو سیاست کی بو محسوس ہوئی۔ انہوں نے سمجھا کہ اس طرح رومی شہنشاہ عرب کے جنوبی علاقہ میں نفوذ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایرانیوں نے اس کے توڑ کے لیے یمن کے یہودی قبائل کو ملایا جن کو روم ی سلطنت نے 70 ء میں شام سے نکال دیا تھا اور وہ وہاں سے جلا وطن ہو کر یمن میں آئے تھے۔ عیسائیوں اور رومیوں کی ضد میں یہودی بہت جلد ایرانیوں کے ساتھ ہو گئے۔ یوسف ذو نواس جو ایک عرب تھا اور پھر یہودی ہو گیا تھا ایرانیوں کی مدد سے اس نے صنعاء (یمن) پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ یہ ایک نیم آزاد عرب حکومت تھی جو ایرانیوں کے ماتحت قائم ہوئی تھی۔ یوسف ذو نواس نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader