حالات سے بلند ہو کر
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
یمن کی بادشاہت حاصل کرنے کے بعد عیسائیوں کو یمن سے ختم کرنے کی کوشش شروع کردی۔ حتی کہ 534ء میں نجران کے بہت سے عیسائیوں کو زندہ جلا دیا۔ اب رومیوں کی باری تھی۔ قیصر روم نے یمن میں عیسائیت کے تحفظ کے نام پر اور حقیقتاً اپنے نفوذ کو بحال کرنے کے لیے ایک تدبیر کی۔ اس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔ نجاشی مذہبی عیسائی تھا اور رومی حکومت کے ماتحت تھا اس نے نجاشی کو ابھارا کہ یوسف ذونواس سے بدلہ لے۔ نجاشی نے ایک حبشی سردار اریاط کو فوج دے کر روانہ کیا۔ اس نے مختصر جنگ کے بعد صنعا پر قبضہ کر لیا۔ ذونواس نے سمندر میں ڈوب کر خودکشی کر لی۔ کچھ دنوں بعد اریاط کی فوج کے ایک سردار ابرہہ نے بغاو ت کر کے اریاط کو قتل کر ڈالا۔ اور نجاشی کو راضی کر کے صنعاء کی حکومت کا فرمان حاصل کر لیا۔ یہی ابر ہہ ہے جس نے 571ء میں کعبہ پر حملہ کیا۔ ابرہہ کے بعد اس کا بیٹا یکسوم اور اس کے بعد دوسرا بیٹا مسروق حکمراں ہوا۔ سابق ملوک یمن کی اولاد میں ایک شخص سیف بن ذی یزن تھا۔ اس کو خیال ہوا کہ اپنے ملک کو غیر عربوں کے نفوذ سے پاک کرے اور اپنی آبائی سلطنت کو دوبارہ حاصل کرے ۔ اس نے یمن میں آزادی کی تحریک (حركة تحريرية) چلائی، صرف مقامی تعاون مقصد کے حصول کے لیے ناکافی تھا۔ چنانچہ وہ ایرانی بادشاہ نوشیرواں کے پاس پہنچا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اپنی فوج سے یمن کی تحریک آزادی کی مدد کرے ۔ ایرانی شہنشاہ کے لیے یہ سنہرا موقع تھا۔ اس نے ایک ایرانی سپہ سالار دھرز کی سرکردگی میں ایک لشکر یمن بھیجنے پر آمادگی ظاہر کردی۔ اس درمیان میں سیف بن ذی یزن مرگیا۔ تاہم اس کا لڑکا معدی کرب ایرانی فوج کو یمن لانے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ لوگ خلیج عمان کو عبور کر کے حضرموت کے ساحل پر اترے۔ وہاں سے صنعاء پہنچے۔ معدی کرب نے ایرانی لشکر کی مدد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader