Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اندرونی طاقت

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

دن بھی انسان کے کام نہیں آتی۔ جب کہ حقیقی طاقت وہی ہے جو زندگی کے مقابلوں میں آدمی کو فاتح بنائے ۔ اندرونی طاقت دراصل اس بات کا نام ہے کہ آدمی اپنے آپ کو نفسانی عواطف سے آزاد کر کے اس بلند تر ذہنی سطح پر پہنچادے جہاں اس کے فیصلوں میں دوسرے اعتبارات (considerations) کی کارفرمائی ختم ہو جائے اور حدیث کے الفاظ میں وہ ’’أَرِنَا الأَشْيَاءَ كَمَا هِيَ‘‘ (تفسیر الرازی، جلد 1، صفحہ 119) کا مقام حاصل کرلے۔ ضد، غصہ، طمع، نفرت، جاہ طلبی، خویش پروری، ذاتی مفاد اور اس قسم کے دوسرے میلانات کا ہالہ اس کے گرد اس کی رایوں اور اقدامات کو متاثر کرنے کے لیے باقی نہ رہے۔ ایسا شخص بے پناہ قوت تسخیر کا حامل ہو جاتا ہے۔ وہ ہر جانچ میں پورا اترتا ہے اس کے اقدامات ہر مقابلے میں لوہے کا ہتھوڑا ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے فیصلوں میں مسئلہ کے تمام متوقع اور غیر متوقع پہلوؤں کی رعایت شامل ہوتی ہے۔ مخالفیں اس کی صداقت اور صلاحیت کو اور زیادہ نکھارنے والی بن جاتی ہیں۔ یہاں ہم فتح مکہ کے فوراً بعد پیش آنے والی ایک صورت حال کا ذکر کریں گے جس نے بیک وقت کئی مسئلے پیدا کیے مگر پیغمبرِ اسلام کی ویر تایا آپ کی اندرونی طاقت ہر ایک کو حل کرتی چلی گئی۔ اس اندرونی طاقت کا اظہار کہیں عفو کی صورت میں ہوا، کہیں عالی حوصلگی اور اعتماد علی اللہ کی صورت میں۔ کہیں آپ اس لیے کامیاب رہے کہ آپ کو وہ نگاہ حاصل ہوگئی تھی جو ہمیشہ مستقبل کو دیکھتی تھی۔ کہیں آپ کے رویہ نے یہ ثابت کیا کہ جو اپنے کو بے غرض بنالے وہ اتنا بلند مرتبہ ہو جاتا ہے کہ پھر اسے کوئی زیر نہیں کر سکتا۔ ہجرت کے آٹھویں سال جب آپ نے مکہ پر قبضہ کیا تو قریش کے کچھ لوگ بھاگ کر ہوازن و ثقیف کے قبائل میں پہنچے اور ان کو اکسا کر ایک نئی لڑائی کے لیے آمادہ کر دیا۔ وہ لوگ اپنی تمام قبائلی شاخوں کو اکٹھا کر کے 20 ہزار کی تعداد میں جمع ہو گئے ۔ حنین میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page