اندرونی طاقت
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
مقابلہ ہوا۔ جنگ کے آغاز ہی میں ہووازن کے تیر اندازوں نے جو گھاٹی میں چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ اسلامی لشکر پر اتنی شدید تیر اندازی کی کہ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور 12 ہزار لشکر میں گیارہ ہزار سے بھی زیادہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔ تاہم تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ابتدائی شکست کے بعد بالآخر مسلمانوں کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کامیابی کا راز پیغمبر کا وہی اندرون تھا، جو اس نازک موقع پر سکینت قلب (التوبہ، 9:26) اور اعتماد علی اللہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اور اس نے دفعتاً بازی لوٹا دی۔ آپ نے دشمنوں کے عین نرغہ میں کھڑے ہو کر یہ رجز پڑھا: أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ آپ نے پکار کر کہا: یا أنصار اللہ وأنصار رسولہ! أنا عبد اللہ ورسولہ صابر (اے اللہ کے انصار، اور اس کے رسول کے انصار، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ثابت قدم ہوں) حضرت عباس کی آواز بہت بلند تھی، آپ کے حکم سے انہوں نے چلا کر کہا: ”اے شجرہ الرضوان کے سایہ میں بیٹھ کر موت کی بیعت کرنے والو، کہاں ہو“ (مغازی الواقدی، جلد 3، صفحہ 99-897)۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ ان کا سردار اپنی جگہ قائم ہے اور دشمنوں کی یلغار آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکی تو انہیں یقین ہو گیا کہ خدا کی مدد آپ کے ساتھ ہے۔ وہ نئے عزم کے ساتھ میدان جنگ کی طرف لوٹ پڑے۔ حتیٰ کہ جس کے اونٹ کے مڑنے میں دیر کی، وہ اپنی سواری سے کود کر پیدل آپ کی طرف دوڑ پڑا۔ اب جنگ کا نقشہ دوسرا تھا۔ فریق مخالف کی صفوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ مسلمانوں کو فتح ہوئی اور کثیر مقدار میں مال غنیمت ہاتھ آیا، جس میں 24 ہزار اونٹ، 40 ہزار بکریاں، 4 ہزار اوقیہ چاندی اور 6 ہزار قیدی تھے۔ اس فتح کے باوجود مسئلہ نے دوبارہ نئی شدید تر شکل اختیار کرلی۔ قبیلہ ثقیف، جو قریش کے بعد عرب کا دوسرا سب سے زیادہ زور آور قبیلہ تھا اور عرب کے واحد محصور شہر کا مالک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader