Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اندرونی طاقت

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا۔ طائف میں قلعہ بند ہوگیا۔ تین ہفتہ کے محاصرہ میں انہوں نے مسلمانوں کو اس سے زیادہ جانی نقصان پہنچایا جو حنین کی جنگ میں انہیں پہنچا تھا۔ ان کی سرکشی کا یہ عالم تھا کہ اس دوران طائف کا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام لایا۔ یہ عروہ بن مسعود ثقفی تھے جو اپنے قبیلہ میں کنواری لڑکیوں کی طرح محبوب تھے مگر جب وہ اسلام قبول کر کے طائف گئے تو طائف والوں نے انہیں تیر مار مار کر ہلاک کر دیا۔ یہاں آپ کی اندرونی طاقت ایک اور شکل میں ظاہر ہوئی۔ جب محاصرہ شدید ہو گیا تو حضرت عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ طائف والوں کے لیے ہلاکت کی دعا فرمائیں۔ مگر آپ نے ان کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی۔ آپ نے غصہ اور انتقام کے جذبہ کے تحت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ تین ہفتہ کے بعد فوج کو حکم دیا کہ واپس چلو۔ اب آپ مقام جعرانہ پہنچے جہاں غزوہ حنین کا مال غنیمت جمع تھا۔ یہاں آپ کے لیے موقع تھا کہ ثقیف کی سرکشی کا بدلہ ان کے حلیف ہوازن سے لیں۔ مگر اس کے برعکس آپ نے یہ کیا کہ قبیلہ ہوازن کے بعض لوگوں کی ایک درخواست پر ان کے تمام کے تمام چھ ہزار قیدی چھوڑ دیے اور انہیں کپڑے اور زاد راہ کے ساتھ ان کے گھروں کو رخصت کیا۔ فیاضی اور وسعت ظرف کا یہ معاملہ اپنے اثرات پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہوازن کے لوگ سب کے سب مسلمان ہو گئے۔ اس واقعہ کا اہل طائف پر گہرا اثر پڑا۔ ہوازن اور ثقیف ایک ہی بڑے قبیلہ کی شاخیں تھیں ۔ ثقیف کو جب ہوازن کے اسلام کی خبر پہنچی تو ان کے لیے یہ واقعہ محاصرہ سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہوا۔ انہیں محسوس ہوا کہ ان کا دایاں بازوٹوٹ چکا ہے اور اب وہ مقابلہ آرائی میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اِنَّهُمُ اِئْتَمَرُو ا بَيْنَهُمْ، وَرَاَوْا اَنَّهٗ لَا طَاقَةَ لَهُمْ بِحَرْبِ مَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْعَرَبِ وَقَدْ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page