Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اندرونی طاقت

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

بَایَعُوا وَ أَسْلَمُوا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 538)۔ یعنی، پھر قبیلہ ثقیف نے آپس میں مشورہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ارد گرد کے عربوں سے لڑنے کی ان میں طاقت نہیں۔ اور وہ بیعت ہو چکے اور اسلام قبول کر چکے۔ ہجرت کے نویں سال (630ء) اہل طائف کا وفد مدینہ حاضر ہوا۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کی پیش کش کی۔ مگر اسی کے ساتھ اپنے لیے عجیب عجیب شرطیں تجویز کیں۔ ”ان کی سر زمین کو فوجی گزر گاہ نہ بنایا جائے گا، وہ عشر نہ دیں گے۔ جہاد میں شرکت نہ کریں گے، نماز نہ پڑھیں گے، ان کے اوپر ان کے علاوہ کسی کو حاکم نہ بنایا جائے گا۔“ آپ نے فرمایا تمہاری سب شرطیں منظور ہیں۔ مگر اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں رکوع نہ ہو (لا خَیْرَ فِی دِیْنٍ لَا رُکُوعَ فِیْہ) مسند احمد، حدیث نمبر 17913۔ آپ کے اصحاب کو ان تحفظات کے ساتھ کسی کو مسلمان کرنا عجیب معلوم ہوا، مگر آپ کی نظریں دور تک مستقبل کو دیکھ رہی تھیں۔ آپ نے یہ کہہ کر انہیں مطمئن کر دیا: سَیَتَصَدَّقُوْنَ، وَیُجَاہِدُوْنَ اِذَا أَسْلَمُوا (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 3025) یعنی، جب یہ لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں گے تو اس کے بعد صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔ امام احمد نے حضرت انس سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی قبولِ اسلام کے لیے کسی چیز کا سوال کیا گیا۔ آپ نے ضرور اسے وہ چیز دی (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2312)۔ آپ کے پاس ایک آدمی آیا۔ آپ نے اس کے لیے اتنی کثیر بکریوں کے دینے کا حکم فرمایا جو دو پہاڑوں کے درمیان حد نظر تک پھیلی ہوئی تھیں، وہ آدمی اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہا: اے میری قوم تم لوگ اسلام قبول کر لو، کیونکہ محمد اتنا زیادہ دیتے ہیں کہ انہیں محتاجی کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ راوی کہتے ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page