اندرونی طاقت
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَجِيءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ - أَوْ أَعَزَّ عَلَيْهِ - مِنَ الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا (مسند احمد، حديث نمبر (14029)۔ یعنی، آدمی آپ کے پاس آتا تھا اور اس کا مقصود صرف دنیا ہوتی تھی۔ مگر اس پر شام نہیں گزرتی تھی کہ دین اس کے لیے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، اس سے زیادہ محبوب ہو جاتا تھا۔ ہوازن و ثقیف کا مسئلہ حل ہوا تھا کہ اسی درمیان ایک اور شدید تر مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ہوازن کی فتح کے بعد آپ کو جو کثیر اموالِ غنیمت حاصل ہوئے تھے، ان کو آپ نے نہایت فیاضی کے ساتھ مکہ کے تازہ نومسلموں میں تقسیم کیا۔ یہ چیز انصار کے بہت سے لوگوں پر شاق گزری۔ انہوں نے سمجھا کہ مکہ پہنچ کر پیغمبر کے اوپر’’ قرشیت‘‘ غالب آگئی اور انہوں نے اپنے بھائی بندوں کو خوش کرنے کے لیے سارا مال انہیں دے دیا۔ ایک انتہائی نازک مسئلہ تھا۔ مگر آپ نے جو کچھ کیا تھا، سطحی عواطف سے بلند ہو کر کیا تھا۔ اس لیے آپ کے پاس اس کے جواب میں کہنے کے لیے نہایت مؤثر چیز موجود تھی۔ آپ نے انصار کے تمام لوگوں کو ایک احاطہ میں جمع کیا اور تقریر کے لیے کھڑے ہوئے ۔ آپ نے فرمایا: ”اے انصار یہ کیا باتیں ہیں جو میرے کانوں تک پہنچ رہی ہیں۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ تم گمراہ تھے، میرے ذریعہ سے اللہ نے تمہیں ہدایت دی۔ تم محتاج تھے، میرے ذریعہ اللہ نے تم کو غنی بنایا۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے میرے ذریعہ تم کو متحد کیا۔“ لوگوں نے کہا’’ہاں‘‘ آپ نے دوبارہ فرمایا: أَمَّا وَاللَّهِ لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ، فَلَصَدَقْتُمْ وَلُصُدِقْتُمْ: أَتَيْتَنَا مُكَذِّبًا فَصَدَّقْنَاكَ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ، وَعَائِلًا فَآسَيْنَاكَ. أَوْ جَدَدْتُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فِي أَنْفُسِكُمْ فِي لُعَاعَةٍ مِنَ الدُّنْيَا تَأَلَّفْتُ بِهَا قَوْمًا لِيُسْلِمُوا، وَوَكَلْتُكُمْ إِلَى إِسْلَامِكُمْ، أَلَا تَرْضَوْنَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader