Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

بِالشَّاةِ وَالْبَعِیرِ، وَ تَرْجِعُو ابِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِکُمْ؟ (خدا کی قسم تم چاہو تو کہہ سکتے ہو اور تم کہو گے تو سچ کہو گے کہ آپ ہمارے پاس نکالے ہوئے آئے تھے، ہم نے آپ کو پناہ دی۔ آپ محتاج آئے تھے، ہم نے آپ کی غم خواری کی۔ آپ خوف زدہ آئے تھے، ہم نے آپ کو امن دیا۔ آپ بے یار ومدگار آئے تھے، ہم نے آپ کی مدد کی۔ اے گروہ انصار! کیا تم دنیا کی معمولی چیز کے لیے بدل ہو گئے جس سے میں نے نوممسلموں کی تالیف قلب کی ہے اور تم کو اس چیز کا وکیل بنایا ہے جس کو اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے یعنی اسلام۔ اے گروہ انصار! کیا تم اس پر راضی نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکری لے کر اپنی منزلوں کی طرف جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنی منزل کی طرف جاؤ)۔ یہ تقریر سن کر سارے لوگ روپڑے ۔ انہوں نے چیخ کر کہا: ہم اللہ کے رسول کے ساتھ راضی ہیں‘‘ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 500-499)۔ اس طرح آپ کی اندرونی طاقت ایک ایسی شاہ کلید بن گئی کہ جو بند دروازہ بھی اس کے سامنے آیا، اس کا قفل اس نے کھول دیا۔ آپ کی شخصیت کے سیلاب کے آگے کوئی چیز ٹھہر نہ سکی۔ خارجی نشانہ : دعوت پیغمبرِ اسلام نے مکہ میں جو عملی جد و جہد شروع کی اس کی اہم بات یہ تھی کہ وہ خارجی دنیا کے خلاف رد عمل کے طور پر وجود میں نہیں آئی، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے۔ بلکہ خود اپنے مثبت فکر کے تحت وضع کی گئی تھی۔ آپ کی بعثت ہوئی تو آپ کے گردو پیش وہ تمام حالات پوری شدت کے ساتھ موجود تھے جو عام طور پر سیاسی، معاشی اور سماجی تحریکوں کی بنیاد ہوا کرتے ہیں۔ مگر آپ نے ان میں سے کسی کو بھی دعوت کا عنوان نہیں بنایا۔ بلکہ انتہائی یکسوئی کے ساتھ مندرجہ بالا پروگرام کی طرف پر امن جدو جہد شروع کر دی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page