خارجی نشانہ: دعوت
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام کی بعثت جس زمانہ میں ہوئی، آپ کا وطن وقت کی ”سامراجی طاقتوں“ کی شکار گاہ بنا ہوا تھا۔ خاص طور پر عرب کا وہ حصہ جو نسبتاً زیادہ زرخیز اور مالدار حیثیت رکھتا تھا، تمام تر اغیار کے ہاتھوں میں تھا۔ جزیرہ عرب کے شمال میں شام کا علاقہ پورا کا پورا رومی سلطنت کے زیر اقتدار تھا۔ اس کے اوپر روم کے ماتحت امرائے عرب کی حکومت قائم تھی۔ اسی طرح جنوب میں یمن کا علاقہ ایران کے زیر اقتدار تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہاں جو ایرانی گورنر مقیم تھا، اس کا نام باذان ہے۔ عربوں کے ہاتھ میں صرف حجاز، تہامہ اور نجد کے علاقے تھے۔ ان کے علاوہ کچھ چٹیل اور بے آب و گیاہ بیابان تھے، جن میں کہیں کہیں کچھ زرخیز ٹکڑے نظر آتے تھے۔ کسریٰ (شہنشاہ فارس) نے جب آپ کے مکتوب کو پھاڑ دیا اور کہا کہ میرا غلام ہو کر مجھ کو اس طرح لکھتا ہے (يَكْتُبُ إِلَيَّ هٰذَا وَ هُوَ عَبْدِي، تاریخ الطبری، جلد 2، صفحہ 655) تو اس کا محرک یہی سیاسی پس منظر تھا۔ پیغمبر اسلام کی پیدائش کے سال (570ء) مکہ پر ابرہہ کا حملہ بھی اسی استحصال کا ایک جزو تھا، جو عرب کے جنوبی حصہ پر قابض تھا۔ اسلام سے قبل خانہ کعبہ عرب کا ایک بہت بڑا بت خانہ تھا۔ اس میں تمام قوموں اور قبیلوں کے بت رکھے ہوئے تھے۔ اس طرح وہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مقدس مقام بن گیا تھا۔ تمام سال لوگ مکہ آتے رہتے تاکہ اپنے بتوں کی زیارت کریں اور نذریں چڑھائیں ۔ اس سے مکہ کی تجارت قائم تھی۔ ابرہہ نے چاہا کہ اس تجارتی مرکزیت کو اپنی طرف منتقل کرلے۔ وہ جنوبی عرب (یمن) میں حبشی فوجوں کا سردار تھا اور حاکم حبشہ کے ماتحت تھا۔ اس نے حبشی حاکم کو قتل کر دیا اور خود حاکم بن گیا۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے مجبورا اسے حاکم تسلیم کر لیا۔ ابرہہ مذہباً عیسائی تھا۔ اس نے صنعاء میں ایک بہت بڑا گرجا تعمیر کیا۔ اس گرجا کے چند کاریگروں کے نام بھی تاریخ میں محفوظ ہیں۔ اب اس نے گرجا کے بارے میں پروپیگنڈ شروع کیا تا کہ لوگ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader