Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

خارجی نشانہ: دعوت

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

کی زیارت کے لیے آنے لگیں اور مکہ کی تجارتی اہمیت صنعاء کی طرف منتقل ہو جائے۔ مگر جب ساری کوشش کے باوجودہ زائرین کو اپنی تعمیر کردہ عبادت گاہ کی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو اس نے ارادہ کیا کہ مکہ کے کعبہ کو ڈھا کر ختم کر دے تا کہ لوگ مکہ کے بجائے صنعاء آنے پر مجبور ہو جائیں۔ چونکہ وہ ہاتھیوں کی فوج کے ساتھ حملہ آور ہوا تھا، وہ ’’ہاتھی والے‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ عرب کی تاریخ میں یہ اتنا اہم واقعہ تھا کہ وہ جس راستہ سے گزرا عربوں نے اس کا نام صراط الفیل رکھا۔ جس چشمہ پر قیام کیا اس کو عین الفیل اور جہاں سے شہر میں داخل ہوا، اس کو باب الفیل کہا گیا۔ جس سال اس نے حملہ کیا تھا اس کا نام عام الفیل پڑ گیا۔ ان حالات میں قیادت کے معروف تصور کا تقاضا تھا کہ آپ پڑوسی حکومتوں کی استعماری سیاست کے خلاف ایک جوابی سیاسی تحریک اٹھائیں اور وطن کو بیرونی اثرات سے پاک کرنے کے لیے لوگوں کے قومی جذبات کو بیدار کریں۔ مگر آپ نے اس قسم کی کوئی تحریک اٹھانے سے مکمل پرہیز کیا۔ اسی طرح اس وقت کی عرب دنیا ’’غیر ذی زرع‘‘ ہونے کی وجہ سے معاشیات کی کسی ذاتی بنیاد سے یکسر محروم تھی۔ یہ اس ریگستانی علاقہ کے ایک ایک شخص کا مسئلہ تھا اور نہایت آسانی سے ایک ’’انقلابی تحریک‘‘ کا عنوان بن سکتا تھا۔ مگر آپ نے اس قسم کے کسی بھی اقتصادی نعرہ سے مکمل طور پر پرہیز کیا۔ ایک بار مکہ کے شرفاء کی ایک جماعت غروب آفتاب کے بعد کعبہ کے سامنے جمع ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بات چیت کے لیے بلایا۔ آپ نے جب اپنی دعوت پیش کی تو انہوں نے کہا: يَا مُحَمَّدُ،... فَإِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَضْيَقَ بَلَدًا، وَلَا أَقَلَّ مَاءً، وَلَا أَشَدَّ عَيْشًا مِنَّا، فَسَلْ لَنَا رَبَّكَ الَّذِي بَعَثَكَ بِمَا بَعَثَكَ بِهِ، فَلْيُسَيِّرْ عَنَّا هَذِهِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page