خارجی نشانہ: دعوت
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
الْجِبَالَ الَّتِي قَدْ ضَيَّقْتَ عَلَيْنَا، وَلَيَبْسُطَ لَنَا بِلاَدَنَا، وَلَيُفَجِّرَ لَنَا فِيهَا أَنْهَارًا كَأَنْهَارِ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ ( سیرت ابن ہشام ، جلد 1، صفحہ 296)۔ یعنی، اے محمد، آپ کو خوب معلوم ہے کہ ہمارا ملک سب سے زیادہ تنگ حال ہے۔ دنیا میں ہم سے زیادہ بے آب کوئی نہیں۔ ہمارے لیے زندگی نہایت مشکل ہے۔ پس اپنے رب سے کہو کہ وہ ان خشک پہاڑوں کو ہم سے ہٹا دے جنہوں نے ہمیں تنگی میں ڈال رکھا ہے اور ہمارے لیے ہمارے ملک کو کشادہ کرے اور اس میں شام اور عراق جیسی ندیاں جاری کردے۔ مکہ کے سرداروں کی یہ تقریر اس پس منظر میں تھی کہ نجد و حجاز کے پہاڑوں کے پہاڑوں نے اس علاقہ کو سمندری ہواؤں سے روک رکھا ہے جس کے نتیجہ میں یہاں شام و عراق کی طرح بارشیں نہیں ہوتیں اور سارا علاقہ خشک پڑا رہتا ہے۔ اس طرح یہ اقتصادی ابتلاء آپ کو زبر دست موقع دے رہا تھا کہ آپ اقتصادی مشن لے کر اٹھیں اور آناً فاناً لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیں۔ مگر آپ نے اس قسم کے مسائل کی طرف کوئی براہ راست توجہ نہ دی بلکہ اپنے آپ کو تمام تر کلمۂ توحید کی تبلیغ کے لیے وقف کر دیا۔ اگرچہ بعد کی تاریخ نے ثابت کیا کہ دعوتی مہم میں ہر قسم کے سیاسی اور اقتصادی امکانات بھی چھپے ہوئے ہیں۔ مگر وہ بالواسطہ نتیجہ کے طور پر آتے ہیں نہ کہ براہ راست جدوجہد کے طور پر۔ پیغمبرِ اسلام کی پوری زندگی ثابت کرتی ہے کہ آپ کے نزدیک اصل اہمیت دعوت کی تھی۔ نبوت ملی تو آپ نے دوسری تمام باتوں کو چھوڑ کر ساری توجہ دعوت پر مرکوز کردی۔ آپ نے اپنے اہل خاندان سے کہا کہ مجھے خدا نے اپنی پیغام رسانی کے کام پر مقرر کیا ہے، تم لوگ میرا ساتھ دو۔ آپ نے اپنے خاندان کے لوگوں کو کھانے پر مدعو کیا۔ یہ تقریباً چالیس مرد تھے جن میں سے تیس افراد جمع ہوئے۔ جب وہ کھانے سے فارغ ہو چکے تو آپ نے تقریر کی مگر کوئی آپ کا ساتھ دینے کے لیے نہ اٹھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader