خارجی نشانہ: دعوت
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنِّي بُعِثْتُ إِلَيْكُمْ خَاصَّةً، وَإِلَى النَّاسِ عَامَّةً (فضائل الصحابة لاحمد بن حنبل، حدیث نمبر 1220) ۔ مَنْ يَضْمَنُ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي، وَيَكُونُ مَعِي فِي الْجَنَّةِ، وَيَكُونُ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي؟ (مسند احمد، حدیث نمبر 883) ۔ فَأَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَنْطِقَ، فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَنْتَ يَا عَلِيُّ؟ أَنْتَ يَا عَلِيُّ (مسند البزار، حدیث نمبر 456) ۔ یعنی، اے بنوعبد المطلب! میں تم لوگوں کی طرف خاص طور پر اور تمام لوگوں کی طرف عام طور پر بھیجا گیا ہوں، (دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے کہا) پس تم میں سے کون میرے قرضوں اور میرے وعدوں کی ذمہ داری میری طرف سے لیتا ہے اور وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا اور میرے اہل میں میرا قائم مقام بنے گا۔ (ایک اور روایت میں ہے کہ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار اسی بات کو دہرایا تو حضرت علی (جو اس وقت نوجوان تھے) نے کہا میں یا رسول اللہ‘، آپ نے فرمایا: تم اے علی! تم اے علی! ایک بار ابو جہل نے آپ کو پتھر کھینچ کر مارا جس سے خون بہنے لگا۔ یہ خبر آپ کے چچا حمزہ کو پہنچی، وہ اگرچہ اس وقت اسلام نہیں لائے تھے۔ مگر خاندانی عصبیت جوش میں آئی، ابو جہل کے یہاں جا کر اس کو مارا اور پھر آپ کے پاس آ کر بولے’’ بھتیجے! میں نے تمہارا بدلہ لے لیا‘‘ آپ نے فرمایا’’ چچا! مجھے اس میں زیادہ خوشی ہوتی کہ آپ اسلام قبول کر لیتے‘‘۔ قریش کے لوگ ابو طالب کے پاس آئے اور کہا: يَا أَبَا طَالِبٍ، إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَأْتِينَا فِي كَعْبَتِنَا وَنَادِينَا فَيَسْمَعُنَا مَا يَؤُدُنَا بِهِ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَكُفَّهُ عَنَّا فَافْعَلُ (اے ابو طالب! تمہارا بھتیجا ہمارے میدانوں میں اور ہماری مجلسوں میں آتا ہے اور ہم کو وہ باتیں سناتا ہے جس سے ہم کو تکلیف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader