Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

خارجی نشانہ: دعوت

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتی ہے۔ اگر تم سے ہو سکے تو اس کو ہمارے پاس آنے سے روک دو)۔ ابو طالب نے اپنے لڑکے عقیل کے ذریعہ آپ کو بلایا اور ان سے قریش کی بات کہی: فَحَلَّقَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَنَا بِأَقْدَرِ عَلَى أَنْ أَدَعَ مَا بُعِثْتُ بِهِ مِنْ أَنْ يَسْتَعْلَ أَحَدُكُمْ مِنْ هَذِهِ الشَّمْسِ شُعْلَةً مِنْ نَارِ ( المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 8553)۔ یعنی، آپ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا کہ خدا کی قسم میں اس پر قادر نہیں کہ جو پیغام دے کر مجھے بھیجا گیا ہے اس کو چھوڑ دوں، جیسے تم میں سے کوئی شخص اس پر قادر نہیں کہ سورج سے آگ کا ایک شعلہ جلائے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ کہہ کر آپ روپڑے (ثُمَّ اسْتَعْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَكَی ) سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 266۔ آپ کے خاندان بنو ہاشم کو چونکہ مکہ میں ہر قسم کی سیادت حاصل تھی، ابتدا ء لوگوں کو شبہ ہوا کہ یہ " با حوصلہ نوجوان " شاید بادشاہ بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ مگر آپ کے مسلسل عمل نے ثابت کر دیا کہ آپ کے سامنے آخرت کی پیغام رسانی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایک مرتبہ آپ نے ابو جہل کو دعوت دی تو اس نے کہا: يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ أَنْتَ مُنْتَهٍ عَنْ سَبِّ آلِهَتِنَا؟ هَلْ تُرِيدُ إِلَّا أَنْ نَشْهَدَ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ؟ فَنَحْنُ نَشْهَدُ أَنَّ قَدْ بَلَّغْتَ ( البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 83)۔ یعنی ، اے محمد ! کیا تم ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے رک جاؤ گے تم یہی تو چاہتے ہو کہ ہم گواہی دیں کہ تم نے پہنچا دیا تو ہم گواہی دیتے ہیں کہ تم نے پہنچادیا۔ شعب ابی طالب کی پناہ گزینی کے زمانہ میں حرام مہینوں میں پابندی ختم ہو جاتی تھی، آپ کے خاندان کے لوگ اس موقع کو خرید فروخت میں استعمال کرتے تھے۔ وہ قربانی کے جانوروں کے گوشت جمع کرتے تا کہ ان کو سکھا کر رکھ لیں اور سال کے بقیہ مہینوں میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page