Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

خارجی نشانہ: دعوت

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

کھاتے رہیں۔ مگر آپ اس فرصت کے موقع پر قبائل کی قیام گاہوں کی طرف نکل جاتے اور ان کو اسلام کی دعوت پہنچاتے۔ ہجرت کا سفر انتہائی نازک سفر تھا۔ مگر اس سفر میں بھی آپ نے دعوت وتبلیغ جاری رکھی۔ سیرت کی کتابوں میں اس سلسلے میں متعدد واقعات کا ذکر ہے۔ مثلاً مقام غمیم پر بریدہ بن حصیب کو دعوت دینا (أَتَاهُ بُرَيْدَةُ بْنُ الْحُصَيْبِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الإِسْلامِ فَأَسْلَمَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ) جس کے نتیجہ میں وہ اور ان کے 80 گھروں کا قبیلہ مسلمان ہوگیا (الطبقات الكبرى، جلد 4، صفحہ 182)۔ اسی طرح رکو بہ گھاٹی پر آپ کی ملاقات دو آدمیوں سے ہوئی۔ آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور وہ ایمان لائے۔ آپ نے ان کا نام پوچھا۔ انہوں نے کہا ہم قبیلہ اسلم کے لوگ ہیں۔ ہمارا پیشہ ڈاکا زنی تھا۔ اس لیے ہم کو المُهَانَانِ (دوزلیل آدمی) کہا جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا: بَلْ أَنْتُمَا الْمُكَرَّمَانِ (مسند احمد، حدیث نمبر 16691)۔ یعنی نہیں تم دو با عزت آدمی ہو۔ آپ نے صحابہ کا مزاج یہ بنایا کہ ملکوں کو فتح کرنا اور مالِ غنیمت حاصل کرنا بڑی چیز نہیں ۔ بڑی چیز یہ ہے کہ تمہارے ذریعہ اللہ تعالی کچھ لوگوں کو ایمان کی دولت عطا فرمائے۔ غزوہ خیبر میں جب آپ نے حضرت علی کو جھنڈا عطا کیا تو ان سے فرمایا: اِنْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ (صحيح البخاري، حدیث نمبر 2942 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2406)۔ یعنی، نرمی کے ساتھ جاؤ۔ جب ان کے میدان میں پہنچ جاؤ تو ان کو اسلام کی دعوت دو، اور ان کو بتاؤ کہ ان پر اللہ کے کیا حقوق ہیں۔ خدا کی قسم، اگر تمہارے ذریعہ سے اللہ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page