Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کی زندگی میں یہ پہلو اس قدر نمایاں ہے کہ اس کا کوئی ایک عنوان دینا ہو تو وہ ’’دعوت‘‘ کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ آپ نے عام رواج کے مطابق سیاسی، معاشی، تمدنی مسائل کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ ساری توجہ دعوت الی اللہ پر مرکوز کردی۔ ابتدا میں بظاہر یہ ایک کام نظر آتا تھا، مگر جب آخری نتیجہ سامنے آیا تو معلوم ہوا کہ یہ وہ سرا ہے کہ اگر وہ ہاتھ آجائے تو بقیہ چیزیں خود بخود ہاتھ آتی چلی جاتی ہیں۔ صبر واستقامت اب صبر کو لیجیے۔ صبر کا لفظ عربی زبان میں ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کہ کسی چیز میں اثر پذیری کے بجائے جماؤ کی کیفیت بتانا مقصود ہو۔ مثلاً صبارۃ سخت بنجر زمین کو کہتے ہیں جو پنچ کو قبول نہ کرے۔ اسی طرح بہادر کو صبور کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ خارجی دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی شخصیت کو قائم رکھتا ہے۔ یہ صبر اس انسان کی اعلیٰ ترین صفت ہے جس کے اندر اسلام ایک مقصد بن کر شامل ہو گیا ہو۔ اسلام اس کے اندر ایسی حرارت پیدا کر دیتا ہے جس کے بعد وہ سست نہیں پڑتا۔ وہ کمزوری نہیں دکھاتا۔ وہ عاجزی ظاہر نہیں کرتا (آل عمران، 3:146)۔ ایمان و اسلام کا مطلب خدا پر اعتماد کرنا ہے، اور جو شخص خدا پر اعتماد کرلے وہ اٹھاہ طاقت کا مالک ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے کسی مرحلہ پر بے صبری کا کوئی سوال نہیں رہتا۔ 1۔ ایک شخص جب اسلام کا علم بردار بن کر کھڑا ہوتا ہے تو اس کو فوراً محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود تو خدا کی مقرر کی ہوئی حدود میں بندھا ہوا ہے، جب کہ دوسرا فریق آزاد ہے کہ جو طریقہ چاہے اپنی کامیابی کے لیے اختیار کرے۔ اس کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی ساری قوت دعوت و تبلیغ کی مہم پر صرف کرے، جب کہ دوسرے لوگ سیاسی کارروائیوں اور اقتصادی تدبیروں سے اپنی پوزیشن کو مستحکم بنا رہے ہیں۔ اس کو ہر حال میں اخلاقی حدود میں رہنے کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page