Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

صبرواستقامت

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

پابند کیا گیا ہے، جب کہ دوسرے لوگ اس قسم کی تمام بندشوں سے آزاد ہیں۔ اس طرح کی باتیں داعیِ اسلام کو اس حد تک متاثر کر سکتی ہیں کہ وہ اسلامی طریقہ کار کو ہلکا سمجھنے لگے اور اس کے دل میں یہ خیال پرورش پانے لگے کہ اسے بھی وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو دوسرے لوگ اختیار کر رہے ہیں۔ یہاں ’’صبر‘‘ اس کے لیے رکاوٹ بنتا ہے۔ صبر اس کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ اپنے طریق عمل کو ہلکا اور بے اثر سمجھنے لگے: فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ (60 :30)۔ یعنی، پس تم صبر کرو۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور تم کو بے برداشت نہ کر دیں وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے۔ 2۔ اسلام کی راہ میں صبر کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ فریق ثانی کی طرف سے جو مصیبتیں ڈالی جائیں، ان کو مکمل طور پر برداشت کیا جائے: وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا (14:12)۔ یعنی، (نبیوں نے کہا) ہم صبر کریں گے اس پر جو ایذا تم ہم کو دیتے ہو۔ یہ صبر بذات خود دعوت حق کا ایک جز ء ہے۔ کیونکہ داعی اگر مدعو کی جوابی کارروائیوں سے گھبرا اٹھے یا جزع فزع کرنے لگے تو یہ بات مشتبہ ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی دعوت میں سنجیدہ ہے، اور واقعۃً اللہ کی رضا جوئی کے لیے لوگوں کو حق کا پیغام دینے اٹھا ہے۔ یہ مصائب تو درحقیقت اس کی سنجیدگی کا امتحان ہیں اور کسی کے لیے اس کی دعوت اسی وقت قابل قبول ہو سکتی ہے جب کہ وہ اس کے سامنے اپنے آپ کو مکمل طور پر سنجیدہ ثابت کر دے۔ 3۔ مخالف کی طرف سے جب کوئی چیز ڈالی جائے تو آدمی عام طور پر یہ کوشش کرتا ہے کہ اُس کو خود مخالف کے اوپر لوٹا دے۔ اس کے مقابلہ میں صبر یہ ہے کہ خاموشی کے ساتھ اس کو اپنے اوپر لے لیا جائے۔ مثال کے طور پر اگر کسی اہل اسلام کو مدعو قوم کی طرف سے اس اقتصادی تعصب کا سامنا پیش آئے کہ یکساں لیاقت رکھتے ہوئے ان کی جگہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page