Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

آدم سے مسیح تک

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

اس عمومی انجام میں صرف چند نبیوں کا استثنا ہے۔ مثلاً حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت یوسف علیہم السلام۔ مگر ان حضرات کو جو عروج واقتدار ملا، وہ ان کے نظریات کی عوامی مقبولیت کا نتیجہ نہ تھا۔ اس کے اسباب بالکل دوسرے تھے۔ حضرت داؤد اسرائیلی بادشاہ ساؤل کی فوج میں ایک نوجوان سپاہی تھے۔ ان کے زمانہ میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں میں جنگ ہوئی۔ فلسطینی فوج میں جالوت نام کا ایک دیوہیکل پہلوان تھا جس سے مقابلہ کرتے ہوئے تمام لوگ ڈرتے تھے۔ بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو شخص اس کو قتل کرے گا میں اپنی لڑکی کی شادی اس سے کر دوں گا۔ حضرت داؤد نے مقابلہ کیا اور اس کو مار ڈالا۔ اس طرح وہ اسرائیلی بادشاہ کے داماد بن گئے۔ اس کے بعد جب ایک جنگ میں بادشاہ اور اس کا ولی عہد دونوں ہلاک ہو گئے تو تخت حضرت داؤد کے حصہ میں آ گیا۔ حضرت سلیمان آپ کے بیٹے تھے اور ان کو حکومت اپنے باپ سے وراثت میں ملی۔ حضرت یوسف کو خواب کی تعبیر کا علم دیا گیا۔ اس سے مصر کا مشرک بادشاہ متاثر ہو گیا، اور اپنے اقتدار اعلیٰ کے تحت حکومتی انتظامات آپ کے سپرد کر دیے ۔ تاہم بادشاہ اور عام مصری باشندے بدستور اپنے مشرکانہ دین پر قائم رہے۔ اس صورت حال کا نقصان صرف یہی نہیں ہوا کہ ہر دور کی بیشتر آبادی خدا کی نعمت ہدایت سے محروم رہی۔ اس سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ کوئی پیغمبر خدا کی طرف سے جو کتاب اور پیغامات لے کر آتا تھا، اس کے بعد اس کو محفوظ رکھنے کا سامان نہ ہو سکا۔ کیونکہ پیغمبر کے بعد اس کے متبعین ہی اس کو محفوظ رکھ سکتے تھے۔ مگر وہ یا تو حاصل نہیں ہوئے یا اتنے کم تھے کہ سماج کے علی الرغم کلام الہی کی حفاظت نہ کر سکے۔ خدا جس کا علم ازل سے ابد تک پھیلا ہوا ہے، جو آنے والے مستقبل کو بھی اسی طرح دیکھ رہا ہے جس طرح گزرے ہوئے ماضی کو، اسے انسانیت کا یہ انجام معلوم تھا۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page