Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

صبرواستقامت

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے کا انتخاب کیا جانے لگے تو یہ مطالبہ لے کر اٹھنا صبر کے خلاف ہوگا کہ ”ہمارے ساتھ مساویانہ سلوک کرو۔“ اس کے برعکس، انہیں یہ کرنا چاہیے کہ اس وار کو اپنے اوپر لے لیں۔ یعنی اگر ماحول مساوی لیاقت کی بنیاد پر انہیں ان کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے تو امتیازی لیاقت پیدا کر کے اسے حاصل کریں۔ مکی دور میں ہجرت حبشہ ایک اعتبار سے اسی قسم کا ایک عمل تھا۔ مکہ کے لوگوں نے جب مسلمانوں کے لیے مکہ میں تجارت کے دروازے بند کر دیے تو انہوں نے پڑوسی ملک میں محنت مزدوری کر کے اپنی معاش حاصل کرنا شروع کر دیا۔ وہاں انہوں نے ایمان داری اور محنت کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ شاہ حبش (نجاشی) نے منادی کے ذریعہ اعلان کرایا کہ جو شخص کسی مسلمان کو ستائے، وہ اس کے بدلے اس مسلمان کو 8 درہم تاوان دے۔ صبر بظاہر ایک سلبی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر اپنے نتائج کے اعتبار سے وہ ایک اعلیٰ ترین ایجابی عمل ہے جس میں آدمی اپنے حریف کے مقابلہ میں فوری جوابی کارروائی کرنے کے بجائے دُور رس عوامل (far reaching factors) پر اعتماد کرتا ہے۔ جب آپ کسی ظلم یا اشتعال انگیزی کے جواب میں فوری اقدام کرتے ہیں تو اس وقت آپ کی کارروائی ایک متاثر ذہن سے نکلی ہوئی کارروائی ہوتی ہے۔ اس کا نقشہ آدمی کے ابلتے ہوئے جذبات کے زور پر بنتا ہے۔ بجائے اس کے کہ خارجی حقائق وامکانات کا بے لاگ جائزہ لے کر اس کے مطابق گہری منصوبہ بندی کی جائے، جس کا دوسرا نام صبر ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ فریق ثانی کو فوری طور پر خود جواب دینے کے بجائے خدا کے ابدی قوانین کو اس کے خلاف کارفرما ہونے کا موقع دیا جائے۔ جب آدمی بے صبری کے ساتھ حریف کے مقابلہ میں دوڑ پڑتا ہے تو اس وقت اس کے رہنما سفلی جذبات اور سطحی محرکات ہوتے ہیں۔ وہ لازماً ایسی غلطیاں کرتا ہے جس سے اس کا مقدمہ کمزور ہو جائے۔ اس کے برعکس، جب آدمی صبر سے کام لیتا ہے تو اس وقت اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page