Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

صبرواستقامت

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اندر کی وہ ربانی قوت اپنا عمل کرنے کے لیے بیدار ہو جاتی ہے جس کو عقل کہتے ہیں۔ انسان کی عقل ایک حیرت انگیز قوت ہے۔ وہ دیوار کے اُس پار دیکھتی ہے اور مستقبل میں جھانک کر اس میں چھپے ہوئے حقائق کو معلوم کر لیتی ہے جن کے ہاتھ آجانے کے بعد حریف کے تمام اطراف و جوانب اس طرح قابو میں آجاتے ہیں جیسے کوئی شکار کسی مضبوط جال میں پھنس جائے اور اس کے بعد اس کی ہر حرکت اس کے اوپر شکاری کی گرفت کو مضبوط کرنے والی ثابت ہو۔ ہجرت کا واقعہ اسی قسم کی ایک مثال ہے۔ جب قریش نے فیصلہ کر لیا کہ آپ کو قتل کر دیں تو ایک صورت یہ تھی کہ آپ ان کی تلوار کے سامنے کھڑے ہو جاتے۔ اس کے برعکس آپ نے ٹھنڈے دماغ سے سوچ کر یہ فیصلہ کیا کہ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے جائیں۔ دوسرے لفظوں میں اپنا مقامِ عمل تبدیل کر دیں۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ ہجرت سے پہلے آپ روزانہ میرے والد (ابوبکر) کے مکان پر آتے اور آئندہ اقدام کے بارے میں مشورہ کرتے۔ چھ مہینے تک نہایت راز داری کے ساتھ ساری تیاریاں مکمل کی گئیں۔ اس کے بعد ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت آپ ایک معتمد گائڈ (ھَادِياً خِرّيتاً) کو لے کر مدینہ کے لیے روانہ ہو گئے (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد 2، صفحہ 246)۔ ایک پر جوش قائد جو حریف سے لڑ کر شہادت کی یادگار قائم کرنے کو سب سے بڑا کمال سمجھتا ہے، اس کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ہجرت ایک قسم کا فرار معلوم ہوگی۔ مگر نتائج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ واحد عظیم واقعہ ہے جس نے اسلامی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اسی طرح صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے اقدام سے رک کر فطرت کو کام کرنے کا موقع دے۔ انسانی فطرت ایک دائمی حقیقت ہے اور اگر خارجی پردے ہٹا دیے جائیں تو وہ انسانی زندگی میں انتہائی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ فطرت کے اندر ہمیشہ اس آدمی کے لیے نرم گوشہ ہوتا ہے جو گالی کے جواب میں چپ رہ گیا ہو۔ فطرت اپنی اندرونی آواز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page