Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

صبرواستقامت

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

کے تحت مجبور ہے کہ ظالم کے بجائے مظلوم کو حق پر سمجھے۔ فطرت کی دنیا میں محرومیوں سے استحقاق پیدا ہوتا ہے اور ضبط واستقامت سے اس کا بر سر حق ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال پیغمبر اسلام اور آپ کے خاندان کا مقاطعہ ہے جو نبوت کے ساتویں سال پیش آیا اور جس کے نتیجہ میں ابو لہب کو چھوڑ کر سارے بنو ہاشم کو ایک پہاڑی درہ (شعب ابی طالب) میں محصور ہونا پڑا۔ ایک مقصد کی خاطر نہایت خاموشی کے ساتھ بد ترین ظلم کو سہتے رہنا فطرت انسانی میں اپنی بازگشت پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ چنانچہ تین سال گزرے تھے کہ خود دشمنوں کے اندر ابو البختری ، ہشام بن عمرو، زبیر بن امیہ، زمحہ بن الاسود اور مطعم بن عدی جیسے متعدد لوگ پیدا ہو گئے۔ انہوں نے قریش کے لیڈروں سے لڑ کر معاہدہ کو چاک کر ڈالا اور بنو ہاشم کو اس ظالمانہ مقاطعہ سے نجات مل گئی۔ صبر کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اس سے نصرت الہی کا استحقاق پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک شخص صحیح مقصد کی خاطر صبر کرتا ہے تو وہ اپنے مسائل کے لیے مالک کائنات کے اوپر بھروسہ کرتا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص ایک صحیح مقصد کے لیے مالک کائنات پر بھروسہ کرے اور وہ اس کے بھروسہ کو پورا نہ کرے۔ اس نصرت کے بے شمار طریقے ہیں۔ کوئی شخص نہ ان کو جان سکتا ہے اور نہ ان کا احاطہ کر سکتا۔ تاہم اسلام اور غیر اسلام کے مقابلہ میں آنے والی ایک خاص نصرت یہ ہے کہ مادی حالات میں موافق کی بیشی پیدا کر دی جائے۔ اور اہل ایمان کے دل میں اعتماد کی کیفیت ڈال دی جائے اور مخالفین کے دل میں رعب: یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا (33:9)۔ یعنی، اے ایمان والو، اللہ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو جب تم پر فوجیں چڑھ آئیں تو ہم نے ان پر بھیجی آندھی اور ایسا لشکر جس کو تم نے نہیں دیکھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page