Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

صبرواستقامت

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ آیت غزوہ احزاب (627ء) سے متعلق ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی مدد کے لیے دو چیزیں بھیجی تھیں — ہوا، اور فرشتوں کی فوج۔ ہوا کوئی انوکھی چیز نہیں۔ وہ ایک موٹے غلاف کی شکل میں ہر وقت کرۂ ارض کے چاروں طرف لپٹی ہوئی موجود ہے۔ مگر ایک خاص وقت میں ایک مقام پر اس کے اندر تیزی پیدا کر دی گئی۔ جس کے نتیجہ میں وہ اہل ایمان کے لیے نصرت بن گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی گروہ کی مدد کرنا چاہتا ہے تو مادی واقعات میں شدت پیدا کر دیتا ہے جس کا نتیجہ اس کے حق میں کامیابی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ فرشتوں کی فوج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر تلوار چلاتے تھے۔ یہ در حقیقت ایک قسم کی نفسیاتی مدد تھی، نہ کہ عام معنوں میں حربی مدد۔ وہ اس لیے آتے تھے کہ ایک طرف مسلمانوں کے دلوں میں ثبات اور دوسری طرف مخالفین اسلام کے دلوں میں رعب پیدا کریں (الانفال، 8:12)۔ وہ مسلمانوں کی نظر میں مخالفین اسلام کی فوج کو کم کر کے دکھاتے تھے اور مخالفین اسلام کی نظر میں مسلمانوں کی فوج کو بہت زیادہ کر دیتے تھے (الانفال، 8:44)۔ عہد فاروقی میں سعد بن ابی وقاص اسلامی لشکر کو لے کر قادسیہ میں اترے جو عربوں کے نزدیک ایران کا دروازہ تھا۔ یہاں زیادہ دنوں تک قیام کرنا پڑا اور کھانے پینے کی چیزیں ختم ہو گئیں ۔ حضرت سعد نے کچھ لوگوں کو روانہ کیا کہ کہیں سے بکریاں اور گائیں تلاش کر کے لائیں۔ انہیں ایک ایرانی ملا جس سے انہوں نے بکریوں اور گایوں کے متعلق دریافت کیا۔ اس نے کہا مجھے کچھ علم نہیں۔ حالاں کہ وہ خود ایک چرواہا تھا اور اس نے اسلامی لشکر کی خبر سن کر اپنے موویشیوں کو قریب کے گھنے جنگل میں چھپا دیا تھا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کے الفاظ میں یہ ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page