Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

فصاح ثور منها: كذب الراعي ها نحن في هذه الأجمة (ایک بیل چلایا، چرواہا جھوٹا ہے۔ ہم یہاں اس جھاڑی میں موجود ہیں)۔ آواز سن کر وہ لوگ جنگل میں گھس گئے اور کچھ مویشیوں کو ہانکتے ہوئے حضرت سعد کے پاس لے گئے۔ اسلامی لشکر کو جب یہ قصہ معلوم ہوا تو وہ بہت خوش ہوئے اور اس کو خدا کی ایک کھلی ہوئی امداد سمجھا۔ مگر، جیسا کہ ایک مورخ نے لکھا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیل نے یہ جملہ کہا کہ ”ہم یہاں ہیں“ (والثور إن لم يكن قد تلفظ بحروف يكذب بها الراعي ) ، بلکہ یہ اس کی عام آواز میں ایک ڈکار تھی۔ اور اس ڈکار سے مسلمانوں نے سمجھا کہ یہاں مویشی موجود ہیں (الفخری فی الآداب السلطانیة، صفحہ 84 )۔ اللہ پر بھروسہ قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ. وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ ۚ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ ( 62-61: 8) ۔ یعنی، اگر دشمن صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بلاشبہ وہ خوب سنتا اور جانتا ہے، اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ قرآن کا یہ حکم اسلامی طریق کار کا خلاصہ ہے۔ اسلام کا طریقہ اصلاً غیر حربی طریقہ ہے۔ حتی کہ فریق مخالف کی طرف سے دھوکہ کا اندیشہ ہو تب بھی اہل اسلام کو خدا کے بھروسہ پر مصالحت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس حکم کا مدعا یہ ہے کہ غیر حربی میدان، بالفاظ دیگر وہ میدان جہاں دوسروں سے ٹکراؤ پیدا کیے بغیر تم اپنے لیے مواقع کار پا رہے ہو، وہاں اپنی قوتوں کو لگادو۔ اور اس کے علاوہ عمل کے جو دوسرے دائرے ہیں، وہاں قدرت کی طاقتوں کو بروئے کار آنے کا موقع دو۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی دو فریق متصادم ہوں تو وہاں تیسرا زیادہ طاقت ور فریق موجود ہوتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page