پیغمبر مکہ میں
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ زندگی کے دو بڑے دور ہیں۔ ایک کو مکی دور کہا جاتا ہے، دوسرے کو مدنی دور۔ مکہ اور مدینہ دو شہروں کے نام ہیں۔ ان الفاظ کو آپ لغت میں دیکھیں تو ان کے یہی معنی آپ کو وہاں لکھے ہوئے ملیں گے۔ مگر کچھ معانی وہ ہیں جو تاریخ کسی لفظ میں شامل کرتی ہے۔ مکہ اور مدینہ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ابتدائی معنی کے اعتبار سے یہ دونوں الفاظ دو شہروں کے نام ہیں۔ مگر تاریخ کے اعتبار سے وہ اسلامی عمل کے دو پہلوؤں کی علامت بن گئے ہیں۔ مکہ دعوت کی علامت ہے اور مدینہ انقلاب کی علامت۔ مکی دور اسلام کو دعوتی قوت کی حیثیت سے اٹھانے کا نام ہے اور مدنی دور اس کو ماحول میں غالب اور سر بلند کرنے کا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً (49:29) ۔ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ منکرین پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل ہیں۔ تم ان کو دیکھتے ہو ركوع اور سجدہ میں۔ وہ اللہ کا فضل تلاش کرتے ہیں۔ ان کے چہروں پر نشان ہے سجدہ کے اثر سے، یہ مثال ان کی تو رات میں ہے۔ اور ان کی مثال انچیل میں یہ ہے جیسے کھیتی نے اپنا انکھوناکالا پھر اس کو مضبوط کیا۔ پھر وہ موٹا ہوا۔ پھر وہ کھڑا ہو گیا اپنے تنے پر۔ وہ اچھا لگتا ہے کھیتی والوں کو تا کہ منکروں کا دل جلائے۔ اللہ نے وعدہ کیا ہے معافی اور اجر عظیم کا ان سے جو ایمان لائے اور نیک کام کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader