Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبر مکہ میں

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ آیت میں تورات کے حوالہ سے پیغمبرِ اسلام کے ساتھیوں کے انفرادی اوصاف کا ذکر ہے اور اس کے بعد انجیل کے حوالہ سے ان کے اجتماعی ارتقا کا۔ پہلے جزء کی تربیت مکہ میں ہوئی اور دوسرے جزء کی تکمیل مدینہ میں۔ پیغمبرِ اسلام کی جو سیرتیں لکھی گئی ہیں، ان کا اندازِ عام طور پر یہ ہوتا ہے گویا آمنہ کے پیٹ سے ایک پُرعجوبہ شخصیت نکلی اور اس نے پُر اسرار طریقوں سے پورے عرب کو مسخّر کر ڈالا۔ سیرت کی کتابیں انسانی تاریخ سے زیادہ کرامات و معجزات کی ایک طلسماتی داستان نظر آتی ہیں۔ یہ ذوق اتنا بڑھا کہ جن واقعات میں کوئی معجزاتی پہلو نہ تھا وہاں بھی لوگوں نے اپنے قوتِ تخیل سے کوئی نہ کوئی چیز ڈھونڈ نکالی۔ مثال کے طور پر صہیب بن سنان کی ہجرت کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ مکہ سے روانہ ہوئے تو قریش کے کچھ نوجوانوں نے انہیں آگے بڑھ کر روکا۔ صہیب نے کہا، اگر میں تمہیں اپنا مال دے دوں تو کیا تم مجھے جانے دو گے۔ انہوں نے کہا ہاں۔ چنانچہ چند اوقیہ سونا جو صہیب کے پاس تھا، وہ سب انہوں نے ان کو دے دیا اور مدینہ پہنچ گئے۔ حضرت صہیب کہتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مدینہ میں دیکھا تو فرمایا: اے ابو یحییٰ تمہاری یہ تجارت بڑی نفع بخش رہی۔ میں نے کہا یا رسول اللہ، مجھ سے پہلے آپ تک مکہ سے کوئی نہیں آیا یہ خبر یقیناً آپ کو جبریل فرشتہ نے دی ہے (فَلَمَّا رَآنِی قَالَ: يَا أَبَا يَحْيَى، رَبِحَ الْبَيْعُ - ثَلَاثًا - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سَبَقَنِي إِلَيْكَ أَحَدٌ، وَمَا أَخْبَرَكَ إِلَّا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ) مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 5706۔ مگر یہی واقعہ دوسری روایت میں ان الفاظ میں آیا ہے: فَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page