پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
رَبِحَ صُهَيْبٌ رَبِحَ صُهَيْبٌ ( الاحادیث المختارة للمقدسی، حدیث نمبر 79 )۔ یعنی، میں قریش کے لوگوں کو اپنا مال دے کر مکہ روانہ ہوا۔ یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گیا۔ اس کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: صہیب کی تجارت نفع بخش رہی، صہیب کی تجارت نفع بخش رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی ایک سادہ انسانی واقعہ ہے اور اسی لیے وہ ہمارے لیے نمونہ ہے۔ آپ کو راستہ چلتے ہوئے اسی طرح ٹھوکر لگی جس طرح عام انسان کو لگتی ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1114)۔ آپ کے مخاطبین اولین کو آپ کا صاحب الہام ہونا اس لیے ناقابل فہم نظر آیا کہ آپ انہیں بظاہر اپنے ہی جیسے ایک انسان نظر آتے تھے: فَإِنَّكَ تَقُومُ بِالْأَسْوَاقِ كَمَا نَقُومُ ، وَتَلْتَمِسُ الْمَعَاشَ كَمَا نَلْتَمِسُهُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 297)۔ یعنی، آپ بازار میں خرید و فروخت کرتے ہیں اور اسی طرح تلاش معاش کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر خدا کی زندگی کی عظمت اس کے انسانی واقع ہونے میں ہے نہ کہ پراسرار معجزاتی داستان ہونے میں۔ آپ کی کامیابی نصرتِ الہی کے تحت ہوئی، اس لحاظ سے بلاشبہ وہ معجزہ تھی۔ مگر اس معجزہ الہی کا ظہور’’بشر رسول‘‘کی سطح پر ہوا نہ کہ کراماتی شخصیت کی سطح پر۔ قرآن میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تصویر دی گئی ہے، اس کو سامنے رکھا جائے تو آپ کی یہی تصویر اس کے مطابق نظر آئے گی۔ آغاز دعوت اپنی زندگی کے چالیسویں سال جب آپ کو غار حرا میں پہلی وحی ملتی ہے تو آپ پر ٹھیک وہی رد عمل ہوتا ہے جو ایک ’’انسان‘‘ پر ہونا چاہیے۔ آپ خوف زدہ حالت میں گھر واپس آتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader