آغاز دعوت
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں ۔ یہاں آپ کی بیوی خدیجہ ہیں۔ وہ خود واقعہ وہی سے الگ ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں تھیں کہ اس کے بارے میں غیر متاثر رائے قائم کر سکیں۔ چنانچہ وہ آپ سے کہتی ہیں: کَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3، صحیح مسلم، حدیث نمبر 160)۔ یعنی، ہر گز نہیں۔ خدا کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوانہ کرے گا۔ آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ بے روزگاروں کو کمانے کے قابل بناتے ہیں مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت کے وقت لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ دعوت کی جدوجہد کے سلسلہ میں آپ کے یہاں وہی فطری ترتیب نظر آتی ہے جو کسی نئے ماحول میں ایک داعی کو پیش آتی ہے۔ حالات کا تقاضا تھا کہ اولاً پوشیدہ طور پر کام کیا جائے: ذكر ابن اسحاق ان عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ يَوْمٍ وَهُمَا يُصَلِّيَانِ. فَقَالَ عَلِيٌّ يَا مُحَمَّدُ مَا هَذَا؟ قَالَ دِينُ اللَّهِ الَّذِي اصْطَفَى لِنَفْسِهِ، وَبَعَثَ بِهِ رُسُلَهُ، فَأَدْعُوكَ إِلَى اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِلَى عِبَادَتِهِ، وَأَنْ تَكْفُرَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى. فَقَالَ عَلِيٌّ: هَذَا أَمْرُ لَمْ أَسْمَعْ بِهِ قَبْلَ الْيَوْمِ، فَلَسْتُ بِقَاضٍ أَمْرًا حَتَّى أُحَدِّثَ بِهِ أَبَا طَالِبٍ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْشِيَ عَلَيْهِ سِرَّهُ قَبْلَ أَنْ يَسْتَعْلِنَ امره. فقال له: يا على إذ لَمْ تُسْلِمْ فَاكْتُمْ. فَمَكَثَ عَلِيٌّ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ أَوْقَعَ فِي قَلْبِ عَلِيٌّ الْإِسْلَامَ، فَأَصْبَحَ غَادِيًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهُ فَقَالَ مَاذَا عَرَضْتَ عَلِيَّ يَا مُحَمَّدُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَتَكْفُرَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، وَتَبْرَأَ مِنَ الْأَنْدَادِ، فَفَعَلَ عَلِيٌّ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader