آدم سے مسیح تک
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے اس نے پہلے ہی یہ مقدر کر دیا تھا کہ پیغمبرانہ دور کے آخری مرحلہ میں وہ اپنا ایک خاص نمائندہ بھیجے گا۔ اس پیغمبر کو دعوت دین کے ساتھ اظہار دین کی نسبت بھی حاصل ہوگی۔ اس کو یہ نصرت خاص دی جائے گی کہ وہ ہر حال میں اپنے مدعوّین پر غلبہ حاصل کرے اور ان کو حق کے آگے جھکنے پر مجبور کرے: لَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ المِلَّةَ العَوْجَاءَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2125)۔ خدا کی فوج اس کا ساتھ دے کر اس کے مخالفوں کو زیر کرے گی، تا کہ خدا کا دین ہمیشہ کے لیے مضبوط بنیادوں پر قائم ہو جائے۔ اور خدا کی کتاب کی حفاظت کا مستقل انتظام ہو سکے۔ بائبل کے الفاظ میں’’ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے، اسی طرح زمین خداوند کے جلال کے عرفان سے معمور ہو (حبقوق 14: 2)۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس منصوبہ کو، بائبل کی شہادت کے مطابق، ہزاروں برس پہلے سے مختلف انبیاء کے ذریعہ ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا، چنانچہ بتا دیا گیا تھا کہ وہ نبی عرب کے صحرائی جغرافیہ سے اٹھے گا۔ وہ بنی اسرائیل کے بقیہ گھرانے یعنی ان کے بھائیوں (بنی اسماعیل) کی اولاد سے ہوگا۔ وہ حضرت مسیح کے بعد آئے گا۔ اس کے ساتھی خدا کے خریدے ہوئے کہلائیں گے۔ جو قومیں ان سے ٹکرائیں گی پاش پاش ہو جائیں گی۔ ازلی پہاڑ (ایران و روم) جھک جائیں گے۔ اس کی سلطنت خشکی سے لے کر بحری ممالک تک پھیلی ہوئی ہوگی۔ وغیرہ موجودہ بائبل اگر چہ ترجمہ اور الحاقات کے نتیجہ میں اصل بائبل سے بہت کچھ مختلف ہو چکی ہے۔ تاہم آج بھی کثیر تعداد میں اس کے اندر ایسے بیانات موجود ہیں جو ایک غیر جانب دار آدمی کے لیے آنے والے آخری نبی کے سوا کسی اور ذات پر صادق نہیں آتے۔ خاص طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کا تو مشن ہی یہ تھا کہ وہ دنیا کو، اور خاص طور پر یہود کو، آنے والے نبی سے آخری طور پر آگاہ کر دیں۔ آپ نے جس ’’نئے عہد نامہ‘‘ کی بشارت دی وہ حقیقتہً اسلام تھا جو یہود کی معزولی کے بعد بنی اسماعیل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader