آغاز دعوت
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
وَأَسْلَمَ، وَمَكَثَ يَأْتِيْهِ عَلَى خَوْفٍ مِنْ أَبِيْ طَالِبٍ وَكَتَمَ عَلِيٌّ إِسْلَامَهُ وَلَمْ يُظْهِرْهُ (البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 24)۔ یعنی، ابن اسحاق کا بیان ہے کہ علی بن ابی طالب آپ کے گھر میں آئے، اس وقت آپ اور حضرت خدیجہ نماز پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا اے محمد! یہ کیا ہے۔ آپ نے جواب دیا: اللہ کا دین جس کو اس نے اپنے لیے منتخب کیا اور اس کی تبلیغ کے لیے اپنے رسول بھیجے ۔ میں تم کو ایک اللہ کی طرف بلاتا ہوں، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کی عبادت کی تلقین کرتا ہوں۔ اور یہ کہ تم لات و عزیٰ کو ماننا چھوڑ دو۔ علی بن ابی طالب نے کہا، یہ ایسی بات ہے جس کو آج سے پہلے میں نے نہیں سنا۔ میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک اپنے باپ ابوطالب سے اس کی بابت بات نہ کرلوں۔ آپ کو یہ پسند نہیں آیا کہ اعلان سے پہلے یہ راز کھول جائے۔ آپ نے کہا اے علی، اگر تم اسلام نہیں لاتے تو اس معاملہ کو پوشیدہ رکھو۔ علی بن ابی طالب اس رات رکے رہے پھر اللہ نے ان کے دل میں اسلام ڈال دیا۔ اگلے روز صبح وہ رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم کے پاس آئے اور کہا، اے محمد! کل آپ نے مجھ سے کیا کہا تھا۔ آپ نے فرمایا، گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور لات و عزیٰ کو نہ مانو، اور جن کو خدا کا شریک و سہیم بنایا جاتا ہے، ان سے اظہار بیزاری کرو۔ علی نے اس پر عمل کیا اور اسلام لے آئے۔ اس کے بعد ابوطالب کے ڈر سے آپ کے پاس چھپ چھپ کر آتے رہے اور علی نے اپنے اسلام کو چھپائے رکھا اس کو ظاہر نہ کیا۔ اوس و خزرج کے ابتدائی مسلمان جب یثرب واپس ہوئے تو آغاز میں ان کا طریقہ بھی یہی تھا کہ خفیہ طور پر دعوتی کام کرتے ( فَرَجَعُوْا إِلَى قَوْمِهِمْ فَدَعَوْهُمْ سِرًّا ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 849۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader