آغاز دعوت
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ نے اپنی پوری زندگی میں شدت سے اس کا اہتمام رکھا کہ کوئی اقدام اس وقت سے پہلے نہ کیا جائے جب کہ اس کی طاقت پیدا ہو چکی ہو۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 38 صحابہ جمع ہو گئے تو حضرت ابو بکر نے آپ سے ”ظہور“ کے لیے اصرار کیا۔ یعنی اب ہم لوگ سامنے آجائیں اور کھلّم کھلا تبلیغ کریں۔ مگر آپ کا جواب تھا: یا اَبَا بَکْرٍ إِنَّا قَلِيلٌ (اے ابو بکر! ابھی ہم تھوڑے ہیں)۔ اسی طرح نبوت کے چھٹے سال جب حضرت عمر اسلام لائے تو انہوں نے آپ سے کہا”اے خدا کے رسول! ہم کیوں اپنے دین کو چھپائیں جب کہ ہم حق پر ہیں۔ اس کے برعکس دوسروں کا دین نمایاں رہے، حالاں کہ وہ باطل پر ہیں“ آپ نے انہیں بھی یہی جواب دیا: يَا عُمَرُ، إِنَّا قَلِيلٌ (اے عمر، ابھی ہم تھوڑے ہیں) من حدیث خیثمہ بن سلیمان القرشی، صفحہ 129-127۔ آپ کا یہی انداز مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ ہجرت کے بعد جب اسلامی طاقت ایک جگہ منظم اور مرتکز ہو گئی اور قریش فوج لے کر اس کے استیصال کے لیے آگئے، اس وقت مقابلہ کی اجازت دی گئی۔ بدر کے میدان میں جب آپ کے اصحاب نے اسلام دشمنوں سے مقابلہ شروع کیا تو نبی صلی اللہ علی وسلم نے فرمایا تھا: ھذا یوم لہ مابعدہ۔ گویا اہل اسلام کے لیے عملی اقدام کا وقت وہ ہوتا ہے جب کہ وہ اس پوزیشن میں ہو جائیں کہ اپنے اقدام سے اسلام کے لیے نیا مستقبل پیدا کر سکتے ہوں۔ اس سے پہلے عملی اقدام جائز نہیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کو دعوتِ عام کی ذمہ داری سونپی گئی تو آپ کو احساس ہوا کہ یہ بہت بڑا کام ہے جس کے لیے ہمہ تن مصروف ہونا ضروری ہے۔ آپ نے چاہا کہ آپ کے خاندان کے لوگ آپ کی اقتصادی ذمہ داریوں میں آپ کے کفیل ہو جائیں تا کہ آپ اس کام کو بخوبی طور پر انجام دے سکیں۔ آپ نے اپنے مکان پر خاندانِ عبد المطلب کو جمع کیا جو اس وقت تقریباً 40 افراد پر مشتمل تھے۔ ایک روایت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader