Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

آغاز دعوت

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مطابق 30 آدمی جمع ہوئے۔ آپ نے ان کو بتایا کہ خدا نے مجھے نبوت عطا کی ہے تم لوگ میرے ساتھ تعاون کرو تا کہ میں اس ذمہ داری کو ادا کر سکوں: يَابَنِي عَبْدِ المُطَّلِبِ، إِنِّي بُعِثْتُ لَكُمْ خَاصَّةً وَإِلَى النَّاسِ بِعَامَّةً، وَقَدْ رَأَيْتُمُ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَا رَأَيْتُمْ، فَأَيُّكُمْ يُبَايِعُنِي عَلَى أَنْ يَكُونَ أَخِي وَصَاحِبِي؟ (مسند احمد، حدیث نمبر 1371)۔ یعنی، اے خاندان عبد المطلب! میں تمہاری طرف خاص طور پر اور تمام لوگوں کی طرف عام طور پر بھیجا گیا ہوں پھر تم میں سے کون مجھ سے اس پر بیعت کرتا ہے کہ وہ میرا بھائی اور ساتھی ہوگا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے کہا: مَنْ يَضْمَنُ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي، وَيَكُونُ مَعِي فِي الْجَنَّةِ، وَيَكُونُ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي؟ فَقَالَ: رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْتَ كُنْتَ بَحْرًا، مَنْ يَقُومُ بِهَذَا؟ (مسند احمد، حدیث نمبر 883)۔ یعنی، تم میں سے کون میرے قرضوں اور میرے وعدوں کا ضامن بنتا ہے اور میرے پیچھے میرے گھر والوں کا ذمہ دار بنتا ہے اور وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ ایک شخص بولا، اے محمد، آپ تو ایک سمندر ہیں۔ کون اس ذمہ داری کے لیے کھڑا ہوسکتا ہے۔ آپ کا خاندان آپ کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ عباس بن عبد المطلب آپ کے چاچتھے۔ وہ اقتصادی حیثیت سے اس پوزیشن میں تھے کہ آپ کی ذمہ داری لے سکیں۔ مگر وہ بھی خاموشی رہے (فَسَكَتُوا وَسَكَتَ الْعَبَّاسُ خَشْيَةَ أَنْ يُحِيطَ ذَلِكَ بِمَالِهِ) السيرة النبوية لابن كثير، جلد 1، صفحہ 460 ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی نصرت فرمائی۔ اولاً آپ کی اہلیہ خدیجہ بنت خویلد اور اس کے بعد ابو بکر صدیق کا مال کی زندگی میں آپ کا اقتصادی سہارا بنارہا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page