آغاز دعوت
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگوں کو دعوتِ حق پہنچانے کے لیے آپ بچوں کی طرح حریص تھے۔ ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ مکہ کے ممتاز لوگ ایک روز غروبِ آفتاب کے بعد کعبہ کے پاس جمع ہوئے اور آپ کو بات چیت کے لیے بلایا (فَبَعَثُوا إِلَيْهِ: إِنَّ أَشْرَافَ قَوْمِكَ قَدْ اجْتَمَعُوا لَكَ لِيُكَلِّمُوكَ) اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَجَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا، وَهُوَ يَظُنُّ أَنْ قَدْ بَدَا لَهُمْ فِيمَا كَلَّمَهُمْ فِيهِ بَدَاءُ، وَكَانَ عَلَيْهِمْ حَرِيصًا يُحِبُّ رُشْدَهُمْ، وَيَعِزُّ عَلَيْهِ عَنَتُهُمْ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 295)۔ یعنی، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے آئے۔ آپ کو خیال ہوا کہ شاید انہیں قبولِ حق کی طرف کچھ میلان ہو گیا ہے اور آپ قریش کی ہدایت کے لیے بے حد حریص تھے اور ان کی ہلاکت آپ پر بہت گراں گزرتی تھی۔ مگر بلانے والوں نے آپ کو محض بحث مباحثہ کے لیے بلایا تھا نہ کہ بات ماننے کے لیے۔ چنانچہ طویل گفتگو کے بعد آپ غمگین واپس لوٹے: وَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ حَزِينًا أَسِفًا لِمَا فَاتَهُ مِمَّا كَانَ يَطْمَعُ بِهِ مِنْ قَوْمِهِ حِينَ دَعَوْهُ، وَلِمَارَأَى مِنْ مُبَاعَدَتِهِمْ إِيَّاهُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 298)۔ یعنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حزن اور افسوس کے ساتھ اپنے گھر واپس آئے کیونکہ قوم سے جس چیز کی امید لگا کر گئے اس کو نہ پایا۔ وہ لوگ اس سے بہت دور تھے۔ اسی طرح ابو طالب کے مرض الموت میں جب لوگ ان کے پاس جمع ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان اپنی موت سے پہلے کچھ طے کر دیجیے (فَخُذْ لَهُ مِنَّا، وَخُذْ لَنَا مِنْهُ، لِيَكُفَّ عَنَّا، وَنَكُفَّ عَنْهُ، وَلِيَدَعَنَا وَدِينَنَا، وَنَدَعَهُ وَدِينَهُ)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader