Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

آغاز دعوت

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

ابوطالب نے آپ کو بلایا اور پوچھا کہ قوم سے آپ کیا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تقولون لا إله إلا الله و تخلعون ما تعبدون من دونه۔ مگر قوم اس کو ماننے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کے بعد جب لوگ چلے گئے تو ابن اسحاق کی روایت کے مطابق ابوطالب نے کہا، بھتیجے ! خدا کی قسم میرا خیال ہے کہ تم نے قوم سے کسی مشکل چیز کا مطالبہ نہیں کیا (وَاللَّهِ يَا بْن أَخِي، مَا رَأَيْتُكَ سَأَلْتَهُمْ شَطَطًا)۔ ابوطالب کی زبان سے یہ جملہ سن کر آپ کی جو کیفیت ہوئی، راوی کہتے ہیں، وہ یہ تھی: طَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِسْلَامِهِ، فَجَعَلَ يَقُولُ لَهُ: أَيْ عَمّ، فَأَنْتَ فَقُلْهَا أَسْتَحِلُّ لَكَ بِهَا الشَّفَاعَةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 18 - 417 ) ۔ یعنی، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوطالب کے بارے میں امید پیدا ہو گئی اور آپ ان سے کہنے لگے، اے چچا پھر آپ ہی اس کلمہ کو کہہ دیجیے تا کہ قیامت کے دن میرے لیے آپ کی سفارش کرنا حلال ہو جائے ۔ آپ مدعو کی طرف سے ہر قسم کے اشتعال کو آخری حد تک برداشت کرتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آپ کی خدمت میں بیعت کے لیے حاضر ہوئی ۔ آپ نے بیعت کے الفاظ ادا کرتے ہوئے حسب معمول جب یہ فرمایا: تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگی، تو ہند فورا بولی: وَهَلْ تَرَكْتَ لَنَا أَوْلاداً نَقْتُلُهُمْ؟ (مسند ابی یعلی، حدیث نمبر 4754 ) ۔ یعنی، ( جنگ کے بعد ) کیا آپ نے ہمارے لیے کوئی اولاد چھوٹی ہے جس کو ہم قتل کریں۔ مگر آپ نے اس کے طنزیہ جملہ کا کوئی اثر نہیں لیا اور خوشی کے ساتھ بیعت کر لی۔ اس مشن کی راہ میں آپ نے نہ صرف اپنے وقت اور اپنے جسم و دماغ کی ساری طاقت لگادی۔ بلکہ اپنا سارا اثاثہ بھی اس کی راہ میں قربان کر دیا۔ نبوت سے پہلے مکہ کی ایک دولت مند خاتون سے نکاح کی وجہ سے آپ کافی مال دار ہو گئے تھے۔ مکہ کے ابتدائی دور میں ایک بار سرداران قریش نے عتبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ بنا کر آپ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page